کائنات کی مشینی تعبیر
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
(law of causation) ان معنوں میں کوئی مطلق حقیقت نہیں ہے جیسا کہ انیسویں صدی میں فرض کر لیا گیا تھا۔ علم کا مسافر دوبارہ لوٹ کر وہیں پہنچ گیا ہے جہاں وہ پہلے تھا... ”اس دنیا کا نظام محض اتفاقی طور پر وجود میں آ جانے والے کسی علت و معلول (cause and effect) کے قانون کے تحت نہیں چل رہا ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک شعوری ذہن ہے جو بالا ارادہ اس کو چلا رہا ہے۔“ سائنس کی واپسی مذہب کی صداقت کا ایک ایسا واضح ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ پچھلے پچاس برسوں میں اس سلسلہ میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں ہم اس مسئلہ کو مختصر طور پر واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ اصول تعلیل کے بارے میں آگے جو باتیں درج ہیں وہ زیادہ تر سر جیمز جینز کی کتاب پر اسرار کائنات (mysterious universe) سے ماخوذ ہے۔ کائنات کو دیکھتے ہی جو سب سے پہلا سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ اس کا بنانے والا کون ہے اور وہ کون ہے جو اس عظیم کارخانہ کو چلا رہا ہے۔ پچھلے زمانوں میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ بہت سی غیر مرئی طاقتیں اس کائنات کی مالک ہیں۔ ایک بڑے خدا کے تحت بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کا انتظام کر رہے ہیں، اب بھی بہت سے لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر علمی دنیا میں عام طور پر یہ نظریہ ترک کیا جا چکا ہے۔ یہ ایک مردہ نظریہ ہے نہ کہ زندہ نظریہ۔ موجودہ زمانہ کے وہ لوگ جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں اور جن کا خیال ہے کہ وہ جدید دور کے انسان ہیں، وہ شرک کے بجائے الحاد کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کائنات کسی ذی شعور ہستی کی کار فرمائی نہیں ہے بلکہ ایک اتفاقی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader