کائنات کی مشینی تعبیر
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
حادثہ کا نتیجہ ہے اور جب کوئی واقعہ وجود میں آجائے تو اس کے سبب سے کچھ دوسرے واقعات بھی وجود میں آجائیں گے۔ اس طرح اسباب و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ ہو جاتا ہے اور یہی سلسلہ اسباب ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے۔ اس توجیہہ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے ایک ”اتفاق“ اور دوسرے ”قانون علت“(law of causation)۔ یہ توجیہہ بتاتی ہے کہ اب سے تقریباً دو لاکھ ارب سال پہلے کائنات کا وجود نہیں تھا، اس وقت نہ ستارے تھے اور نہ سیارے، مگر فضا میں مادہ موجود تھا۔ یہ مادہ اس وقت جمی ہوئی ٹھوس حالت میں نہ تھا، بلکہ اپنے ابتدائی ذرے یعنی برقیے اور پروٹانوں کی شکل میں پوری فضا، بسیط میں یکساں طور پر پھیلا ہوا تھا، گویا انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرات کا ایک غبار تھا جس سے کائنات بھری ہوئی تھی۔ اس وقت مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا، اس میں کسی قسم کی حرکت نہ تھی۔ ریاضی کے نقطہ نگاہ سے یہ توازن ایسا تھا کہ اگر اس میں کوئی ذرا بھی خلل ڈال دے تو پھر یہ قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ خلل بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اگر اس ابتدائی خلل کو مان لیجے تو ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد کے تمام واقعات علم ریاضی کے ذریعہ ثابت ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ مادہ کے اس بادل میں خفیف سا خلل واقع ہوا۔ جیسے کوئی حوض کے پانی کو ہاتھ ڈال کر ہلا دے۔ کائنات کی پرسکون دنیا میں یہ اضطراب کس نے پیدا کیا، اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ لیکن خلل ہوا اور یہ خلل بڑھتا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے جس کو ہم ستارے، سیارے اور نیبولا کہتے ہیں۔ کائنات کی یہ توجیہہ سائنس کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اس قدر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader