کچھ نئی حقیقتیں
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
تصنیف میں شاید اتنا ہی کہا جا سکتا تھا۔ مگر میں اس پر یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ جدید تحقیقات نے واقعات و حقائق کے کچھ ایسے نئے گوشے کھولے ہیں، جس کے بعد ایک حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ روح کا جسم سے الگ ایک مستقل وجود ہونا یا جسم کے فنا ہونے کے بعد روح کا باقی رہنا محض وجدانی چیز نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس کو تجربیاتی دلیل سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ جسم کے بارے میں سائنس نے دریافت کیا ہے کہ وہ بے شمار چھوٹے چھوٹے خلیوں (cells) کا مرکب ہے جن کی تعداد ایک متوسط جسم میں ایک ہزار ارب کے قریب ہوتی ہے۔ یہ خلیے ہر آن ٹوٹ کر ختم ہوتے رہتے ہیں۔ غذا ہضم ہو کر ہمارے جسم کے لیے وہ خلیے مہیا کرتی ہے جو ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ہر روز درکار ہوتے ہیں۔ گویا جسم نام ہے ایک ایسی عمارت کا جو کھربوں اینٹوں سے ملکر بنا ہو اور ہر آن اپنی اینٹوں کو بدلتا رہتا ہو۔ اب اگر روح جسم کا ایک مظہر ہے تو جس طرح مشین کا ایک پرزہ ٹوٹنے سے پوری مشین متاثر ہو جاتی ہے اور باجے کا ایک تار خراب ہو جانے سے اس کی آواز پر اثر پڑ جاتا ہے اسی طرح جسم کے مرکبات بدلنے یا ضائع ہونے سے روح میں بھی تبدیلیاں ہونی چاہئیں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ روح جسم سے الگ ایک چیز ہے جو بذات خود اپنا وجود رکھتی ہے۔ چنانچہ ایک سائنس داں نے انسانی ہستی کو اس کے جسم کے مقابلے میں ایک ایسی مستقل بالذات چیز قرار دیا ہے جو مسلسل تغیرات کے اندر غیر متغیر حالت میں اپنا وجود باقی رکھتی ہے۔ اس کے الفاظ میں: “Personality is changelessness in change.” اس خیال کی مزید تصدیق نفسیات کے اس انکشاف سے ہوتی ہے جس کو تحت شعور یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader