Urdu book · مذہب اور سائنس

کچھ نئی حقیقتیں

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

لاشعور کہا جاتا ہے اور جو انسانی ذہن کا نسبتاً زیادہ بڑا حصہ ہے۔ لاشعور کے بارے میں اب یہ تقریباً مسلمہ طور پر مان لیا گیا ہے کہ جو خیالات اس کے اندر جگہ پاتے ہیں وہ تحایات بالکل یکساں حالت میں باقی رہتے ہیں۔ فرائڈ اپنے اکتیسویں لیکچر میں کہتا ہے: ”منطق کے قوانین بلکہ اضداد کے اصول بھی لاشعور کے عمل پر حاوی نہیں ہوتے۔ مخالف خواہشات ایک دوسرے کو زائل کیے بغیر اس میں پہلو بہ پہلو ہمیشہ موجود رہتی ہیں۔۔۔ لاشعور میں کوئی ایسی چیز نہیں جو نفی سے مشابہت رکھتی ہو اور ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لاشعور کی دنیا میں فلسفیوں کا یہ دعویٰ غلط ہو جاتا ہے کہ ہمارے تمام دماغی افعال وقت اور فاصلہ کے درمیان واقع ہوتے ہیں۔ لاشعور کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں جو وقت کے تصور سے مطابقت رکھتی ہو۔ لاشعور میں وقت کے گزرنے کا کوئی نشان نہیں اور یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے جس کے معنی سمجھنے کی طرف ابھی تک فلسفیوں نے پوری توجہ نہیں کی کہ وقت کے گزرنے سے ذہنی عمل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ ایسے خیالات (conative impulses) جو کبھی لاشعور سے باہر نہیں آئے، بلکہ وہ ذہنی تاثرات بھی جنہیں روک کر لاشعور میں دبا دیا گیا ہو، فی الواقع غیر فانی ہوتے ہیں اور دسیوں سال تک اس طرح سے محفوظ رہتے ہیں گویا ابھی کل وجود میں آئے ہیں۔“ New Introductory Lectures on Psychoanalysis, London. 1949, p. 99 لاشعور کے عمل کا وقت کی گرفت سے آزاد ہونا، ظاہر کرتا ہے کہ لاشعور جسم سے الگ اپنا کوئی وجود رکھتا ہے۔ کیونکہ جسم کے بارے میں یہ مسلم ہے کہ وہ وقت اور فاصلہ کے قوانین کا پابند ہے اور انہیں حدود کے اندر اس کے تمام مظاہر واقع ہوتے ہیں۔ اب اگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page