Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتی ہے۔ مگر اب فلکیات کے مطالعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ جذب و کشش کا ایک عالمی نظام ہے جس کے تحت سورج، چاند اور تمام ستارے اور سیارے حرکت کر رہے ہیں۔ اس لیے اب خدا کو ماننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جن کے متعلق پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ان کے پیچھے کوئی ان دیکھی طاقت کام کر رہی ہے، وہ سب جدید مطالعہ کے بعد ہماری جانی پہچانی فطری طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ نظر آیا۔ گویا ایک خدا یا مافوق الفطری طاقت کا وجود بے بنیاد طور پر فرض کر لیا گیا تھا۔ ’’اگر قوس قزح گرتی ہوئی بارش پر سورج کی شعاعوں کے انعطاف (Refraction) سے پیدا ہوتی ہے تو یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ وہ آسمان کے اوپر خدا کا نشان ہے‘‘۔ ہکسلے اس قسم کے واقعات پیش کرتا ہوا کس قدر یقین کے ساتھ کہتا ہے: “If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.” *(Man in the Modern World, pp.* *18-19)* یعنی واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیں تو وہ مافوق الفطری اسباب کے پیدا کیے ہوئے نہیں ہو سکتے۔ اور ظاہر ہے کہ جب واقعات کے پیچھے مافوق الفطری اسباب موجود نہ ہوں تو کسی مافوق الفطرت ہستی کے وجود پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے۔ مخالفین مذہب کے اس استدلال میں کیا کمزوری ہے، اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ ایک شخص ریلوے انجن کو دیکھتا ہے کہ اس کے پہیے گھوم رہے ہیں اور وہ پٹری پر بھاگا چلا جا رہا ہے۔ اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہیے کیسے گھوم رہے ہیں۔ تحقیق کرنے کے بعد اس کی رسائی انجن کے پرزوں تک ہوتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ پرزوں کی حرکت سے پہیے گھوم رہے ہیں۔ کیا اس دریافت کے بعد وہ یہ سمجھنے میں حق بجانب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page