Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو گا کہ انجن اپنے پرزوں کے ساتھ بذاتِ خود ٹرین کی حرکت کا سبب ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ انجن سے پہلے انجنئیر اور ڈرائیور کو ماننا ضروری ہے۔ انجنئیر اور ڈرائیور کے بغیر انجن کا نہ تو کوئی وجود ہے اور نہ اس میں کسی قسم کی حرکت کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ گویا انجن یا اس کا پرزہ آخری حقیقت نہیں۔ آخری حقیقت وہ ذہن ہے جو انجن کو وجود میں لایا ہے اور اپنے ارادہ سے اس کو چلا رہا ہے۔ ایک عیسائی عالم نے بہت صحیح کہا کہ فطرت کا ئنات کی تو جیہ نہیں کرتی۔ وہ خود اپنے لیے ایک تو جیہ کی طالب ہے: “Nature does not explain, she is herself in need of an کیونکہ، اس کے الفاظ میں، فطرت کا قانون تو کائنات کا ایک واقعہ ہے، اس کو کائنات کی تو جیہ کہا جا سکتا ہے: Nature is a fact, not an explanation. مرغی کا بچہ انڈے کے مضبوط خول کے اندر پرورش پاتا ہے اور اس کے ٹوٹنے سے باہر آجاتا ہے۔ یہ واقعہ کیونکر ہوتا ہے کہ خول ٹوٹے اور بچہ جو گوشت کے لو تھڑے سے زیادہ نہیں ہوتا، وہ باہر نکل آئے۔ پہلے کا انسان اس کا جواب یہ دیتا تھا کہ ”خدا ایسا کرتا ہے۔“ مگر اب خورد بینی مشاہدہ کے بعد معلوم ہوا کہ جب 21 روز کی مدت پوری ہونے والی ہوتی ہے، اس وقت انڈے کے اندر ننھے بچے کی چونچ پر ایک چھوٹی سی سخت سینگ ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ سینگ اپنا کام پورا کر کے بچے کی پیدائش کے چند روز بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے۔ مخالفین مذہب کے نظریے کے مطابق یہ مشاہدہ اس پرانے خیال کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ بچہ کو باہر نکالنے والا خدا ہے۔ کیونکہ خورد بین کی آنکھ ہم کو صاف طور پر دکھارہی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page