Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ ایک 21 روزہ قانون ہے جس کے تحت وہ صورتیں پیدا ہوتی ہیں جو بچہ کو خول کے باہر لاتی ہیں۔ مگر یہ مغالطہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ جدید مشاہدہ نے جو کچھ ہمیں بتایا ہے وہ صرف واقعہ کی چند مزید کڑیاں ہیں، اس نے واقعہ کا اصلی اور آخری سبب نہیں بتایا۔ اس مشاہدہ کے بعد صورت حال میں جو فرق ہوا ہے وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ پہلے جو سوال خول ٹوٹنے کے بارے میں تھا، وہ ”سیسنگ“ کے اوپر جا کر ٹھہر گیا۔ بچہ کا اپنی سینگ سے خول کو توڑنا واقعہ کی صرف ایک درمیانی کڑی ہے۔ اس لحاظ سے وہ اصل واقعہ ہی کا ایک جزو ہے، وہ واقعہ کی تشریح نہیں ہے۔ واقعہ کی تشریح تو اس وقت معلوم ہوگی جب ہم جان لیں کہ وہ آخری اسباب کیا ہیں جن کے نتیجے میں بچہ کی چونچ پر سینگ نمودار ہوئی۔ اس آخری سبب کو جاننے سے پہلے سینگ کا ظہور خود ایک سوال ہے، نہ کہ اسے اصل سوال کا جواب قرار دیا جائے۔ کیونکہ پہلے اگر یہ سوال تھا کہ ”خول کیسے ٹوٹتا ہے“ تو اب یہ سوال ہو گیا کہ ”سینگ کیسے بنی ہے۔“ ظاہر ہے کہ دونوں حالتوں میں کوئی نوعی فرق نہیں۔ اس کو زیادہ سے زیادہ فطرت کا وسیع تر مشاہدہ کہہ سکتے ہیں۔ فطرت کی توجیہ کا نام نہیں دے سکتے۔ مخالفین مذہب جس انکشاف کو فطرت کی توجیہ کا نام دے کر اس کو خدا کا بدل ٹہرا رہے ہیں، اس کو ہم نہایت آسانی سے فطرت کا طریق کار کہہ سکتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا ان قوانین کے ذریعہ کا ئنات میں اپنا عمل کرتا ہے جس کے بعض اجزاء کو سائنس نے دریافت کیا ہے، فرض کیجئے مذہبی لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سمندروں میں جوار بھاٹا لانے والا خدا ہے۔ اب جدید دور کا ایک سائنس داں ہم کو بتاتا ہے کہ جوار بھاٹا در حقیقت چاند کی کشش (gravity-pull of moon) اور دنیا کے سمندروں اور خشکی کے ٹکڑوں کی جغرافیائی وضع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page