مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
ہھیت (Geographical Configuration) کے سبب سے ہوتا ہے۔ سائنس داں کے اس مشاہدے کو ہمیں رد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بہت خوشی کے ساتھ ہم اسے قبول کر سکتے ہیں۔ مگر اس سے ہمارے عقیدے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ صحیح ہے کہ طوفان قوت کشش اور زمین کی جغرافی بناوٹ کے ذریعہ عمل کرتا ہے۔ مگر قوت کشش اور جغرافی بناوٹ کیا ہیں۔ وہ بھی خدا ہی کی مخلوق ہیں۔ وہ خدا ہی ہے جو ان ذرائع سے اپنا فعل انجام دیتا ہے۔ خدا آج بھی طوفان کا حقیقی سبب ہے۔ جان وسن کے الفاظ میں: “This does'nt destroy belief: it is still God working through these things, who is responsible for the tides.” (John Wilson, Philosophy and Religion, London, 1816, p. 37) اسی طرح حیاتیات کے میدان میں نظریہ ارتقا کے حوالے سے یہ بات بار بار دہرائی گئی ہے کہ حیاتیاتی عمل اب کسی ماورائے فطرت ذریعہ کی موجودگی کا تقاضا نہیں کرتا۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے کسی با شعور خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ جدید مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ زندگی صرف چند مادی طاقتوں سے خود بخود ہونے والا ایک نتیجہ ہے جو خاص طور پر تین ہیں: reproduction, variation, and differential survival. یعنی توالد و تناسل کے ذریعہ مزید زندگیوں کا پیدا ہونا، پیدا شدہ نسل کے بعض افراد میں کچھ فرقوں کا ظہور اور پھر ان فروغ کا پشتہا پشت میں ترقی کر کے مکمل ہو جانا۔ اس طرح مخالفین مذہب کے نقطہ نظر کے مطابق ڈارون کے انتخاب طبیعی کے اصول کا حیاتیاتی مظاہر پر انطباق اس کو ممکن اور ضروری بنا دیتا ہے کہ زندگی کی نشو و نما پر خدا کی کار فرمائی کے تصور کو بالکل ترک کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader