Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی کائنات ایک تصوراتی کائنات ہے تو اس کی تخلیق بھی ایک تصوراتی عمل سے ہونی چاہیے ۔ وہ کہتا ہے کہ مادہ کو امواج برق سے تعبیر کرنے کا جدید نظریہ انسانی تخیل کے لیے بالکل ناقابل ادراک ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ لہریں محض امکان کی لہریں (waves of probabilities) ہوں جن کا کوئی وجود نہ ہو۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے وجوہ سے سر جیمز جینز اس نتیجہ تک پہنچا ہے کہ کائنات کی حقیقت مادہ نہیں، بلکہ تصور ہے۔ یہ تصور کہاں واقع ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک عظیم ریاضیاتی مفکر (mathematical thinker) کے ذہن میں ہے۔ کیونکہ ان کا ڈھانچہ، جو ہمارے علم میں آتا ہے، وہ مکمل طور پر ریاضیاتی ڈھانچہ ہے۔ یہاں میں ایک اقتباس نقل کروں گا: ”یہ کہنا صحیح ہوگا کہ علم کا دریا پچھلے چند سالوں میں ایک نئے رخ پر مُڑا ہے۔ تیس سال پہلے ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم ایک ایسی حقیقت کے سامنے ہیں جو اپنی نوعیت میں مشینی (mechanical) قسم کی ہے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ کائنات ایٹموں کے ایک ایسے بے ترتیب ڈھیر پر مشتمل ہے جو اتفاقی طور پر اکٹھا ہو گئے ہیں اور جن کا کام یہ ہے کہ بے مقصد اور اندھی طاقتوں کے عمل کے تحت جو کوئی شعور نہیں رکھتیں کچھ زمانے کے لیے ایک بے معنی رقص کریں جس کے ختم ہونے پر محض ایک مردہ کائنات باقی رہ جائے۔ اس خالص میکانکی دنیا میں، مذکورہ بالا اندھی طاقتوں کے عمل کے دوران میں، زندگی محض اتفاق سے وجود میں آگئی۔ کائنات کا ایک بہت ہی چھوٹا گوشہ، یا امکان کے طور پر اس طرح کے کئی گوشے، کچھ عرصے کے لیے اتفاقی طور پر ذی شعور ہو گئے ہیں، اور یہ بھی ایک بے روح دنیا کو چھوڑ کر بالآخر ایک روز ختم ہو جائیں گے۔ آج ایسے قوی دلائل موجود ہیں جو طبیعی سائنس کو یہ ماننے پر مجبور کرتے ہیں کہ علم کا دریا ایک غیر مشینی حقیقت (non-mechanical

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page