انسان جس کو سائنس دریافت نہ کرسکی
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر ہماری مشکل یہیں ختم نہیں ہوتی۔ وہ اس سے بہت آگے جاتی ہے۔ فرض کیجیے ایک شخص اپنے ذمہ یہ کام لیتا ہے کہ وہ انسانیت کی حقیقت کو معلوم کرے گا، اور انسان کو بتائے گا کہ زندگی کا قانون کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ انسانی آبادیوں سے اپنے مطالعہ کا آغاز کرتا ہے۔ لمبے عرصے تک مختلف سماجوں کی چھان بین کرنے کے بعد اس کو محسوس ہوتا ہے کہ سماج تو انسانوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس لیے جب تک ہم فرد کو سمجھ نہ لیں، جماعت کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اب وہ معاشرہ کو چھوڑ کر انسان کا مطالعہ شروع کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ سب سے پہلے نفسیات کی طرف رخ کرتا ہے، یہاں وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا کوئی ایک فکر نہیں بلکہ اس کی بہت سی شاخیں ہیں اور سب کے نتائج تحقیق الگ الگ ہیں۔ نفسیات کی ایک شاخ کا دعویٰ ہے کہ انسان کے تمام اعمال کا مرکز اس کا احساس ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ انسان خارجی دنیا سے شعوری یا غیر شعوری طور پر جو تاثر قبول کرتا ہے، اس کا ہر کام اسی کا رد عمل ہے، کوئی جنسی خواہشات کو اس کے تمام اعمال کا محرک بتاتا ہے، کسی کا مطالعہ یہ ہے کہ اپنے آئیڈیل کو پا لینے کا نام معلوم جذبہ انسان کو متحرک کیے ہوئے ہے۔ کوئی مکتب فکر شعور کو اصل قرار دیتا ہے۔ اور اسی کی روشنی میں انسان کی پوری ہستی کی تشریح کرتا ہے۔ اور کوئی اس بات کا قائل ہے کہ عقل اور ذہن کوئی چیز نہیں۔ انسان کے مختلف اعضاء کی عنان کسی ایک مرکزی قوت کے ہاتھوں میں نہیں ہے بلکہ انسان جس حصہ جسم پر زیادہ توجہ دیتا ہے اس کی نشوونما بہتر طریقہ سے ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں کوئی اچھا رقص بن جاتا ہے، کوئی اچھا مفکر۔ نفسیات کا یہ اختلاف اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ بعض سرے سے اس واقعہ کا انکار کرتے ہیں کہ اس نام کا کوئی علم (science) فی الواقع موجود ہے۔ خیالات کے اس جنگل کو دیکھ کر وہ سوچتا ہے کہ انسانی وجود کے دوسرے حصے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader