انسان جس کو سائنس دریافت نہ کرسکی
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
حیاتیا ت، کا مطالعہ کرے تا کہ دونوں کے نتائج کو ملا کر کوئی رائے قائم کی جا سکے۔ جب انسان کو وہ اس حیثیت سے دیکھتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ انسان، نظام ہضم، نظام تنفس، نظام دوران خون وغیرہ کا ایک مجموعہ ہے۔ ان نظاموں کی بنیاد چند کیمیاوی تبدیلیوں پر ہے جو کچھ کیمیاوی اشیاء اور ان کے آپس کے عمل اور رد عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جسم کا سارا نظام کیمیائی تحلیل (metabolism) کا ہی ایک پیکرہ ہے۔ اب وہ غور کرتا ہے تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ جب جسم انسانی کا وجود اور اس کا نشو و نما کیمیاوی ردوبدل کا مرہون منت ہے تو پہلے کیمیاوی تبدیلیوں کے اصولوں کو ہی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ اس کے بغیر انسان کے بارے میں حقیقی اور قابل اطمینان معلومات نہ مل سکیں گی۔ اس لیے اب وہ کیمیا اور طبیعیات کا مطالعہ کرنے لگتا ہے اور اس میں ایک عمر کھپا دیتا ہے۔ کیمیا اور طبیعیات کا مطالعہ اسے مانے کیول اور ایٹم کے مطالعہ تک لے جاتا ہے اور پھر وہ ایٹم کے اجزائے ترکیبی الیکٹران اور پروٹان وغیرہ کا مطالعہ شروع کر دیتا ہے جس کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ ساری کائنات برقی لہروں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس طرح مطالعہ کرتے کرتے بالآخر وہ جدید سائنس کے آخری شعبے، نیوکلیئر سائنس میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس طرح معلومات کا عظیم دفتر جمع کرنے کے باوجود وہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتا۔ اور جو شخص انسان کی حقیقت معلوم کرنے اور اس کے قانون وضع کرنے چلا تھا، وہ ایک ایسی دنیا میں گم ہو جاتا ہے جو نظر آنے کے باوجود نظر نہیں آتی۔ ڈاکٹر جوڈ (Joad) کے الفاظ میں: ” جدید مادہ ایک ایسی بے حقیقت چیز ہے جو ہاتھ نہیں آسکتی۔ یہ فاصلہ اور وقت کے مرکب کا ایک ابھار، برقی رو کا ایک جال ہے۔ یا امکان کی ایک لہر ہے جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader