انسان جس کو سائنس دریافت نہ کرسکی
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھتے ہی دیکھتے فنا کے اندر کھو جاتی ہے۔ اکثر اوقات اسے مادے کی بجائے دیکھنے والے کے شعور کا ایک پھیلاؤ سمجھا جاتا ہے۔“ زندگی کے راز کو مادی علوم میں تلاش کرنے کا یہ عبرت ناک انجام بتاتا ہے کہ زندگی کا راز انسان کے لیے ناقابل دریافت ہے۔ اب جس طرح ایک بیمار شخص کی یہ معذوری کہ وہ خود اپنا علاج نہیں کرسکتا، اس کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ اس کو ایک ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔ اسی طرح نظام فطرت میں انسان کا ایک چیز کے لیے ضرورت مند ہونا اور پھر اس ضرورت کی تکمیل کے لیے کافی صلاحیت نہ رکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کے لیے وہ اپنے اس خدا کا محتاج ہے جس نے اسے موجودہ شکل میں بنایا ہے۔ جس طرح خدا نے اسے آکسیجن کا محتاج بنایا ہے اور پھر آکسیجن بے حساب مقدار میں سارے کرہ ارض کے گرد پھیلا دی۔ اسی طرح اس نے انسان کو زندگی کی حقیقت جاننے کا محتاج بنایا اور پھر اپنے نبیوں کے ذریعہ اس رُخ سے بھی اِس دَور کی مِلت بات زندگی کی حقیقت واضح فرمائی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader