دورِ جدید کا مذہب۔ تعارف
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
دور جدید کا مذہب تعارف جولین ہکسلے کے نزدیک مکمل تشکیک (complete scepticism) ناقابل عمل ہے اور انسان کے لیے کچھ نہ کچھ عقیدہ رکھنا ضروری ہے۔ وہ لکھتا ہے : “Religion of some sort is probably necessary.” (Hindustan Times, Oct. 1961) یعنی کسی نہ کسی قسم کا مذہب انسان کے لیے ضروری ہے۔ مگر دور جدید کا مذہب، اس کے نزدیک یقینی طور پر ایک بے خدا مذہب (godless religion) اور مذہب بغیر الہام (religion with out revelation) ہوگا۔ بظاہر یہ ایک لغوی بات معلوم ہوتی ہے مگر در حقیقت اس کی پشت پر ایک مستقل فلسفہ ہے اور اس نے دور جدید کے اکثر ذہنوں کو متاثر کیا ہے۔ اس طرز پر جو لوگ سوچتے ہیں، ان کے خیالات اگر چہ باہم یکساں نہیں ہیں۔ نیز ان میں مخالف مذہب اور بظاہر غیر مخالفین دونوں قسم کے لوگ شامل ہیں مگر جو بات سب میں مشترک ہے وہ یہ کہ یہ تمام لوگ رسالت کے ذریعہ رہنمائی حاصل کرنے کے قائل نہیں ہیں بلکہ وہ اس کو دوسرے علوم کی طرح محض انسانی دریافت کی ایک چیز سمجھتے ہیں۔ لارڈ مارلے نے اسی معنی میں کہا تھا کہ سائنس کا دوسرا اہم کام یہ ہے کہ وہ انسانیت کے لیے ایک مذہب کی تخلیق کرے : “The next great task of science is to create a religion for mankind.” (Science & Christian Belief, by C.A. Coulson, 1955, p. 8)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader