Urdu book · مذہب اور سائنس

دورِ جدید کا مذہب۔ تعارف

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

اس گروہ میں سے کوئی شخص اگر مذہب کا نام لیتا ہے تو وہ بھی عام مذہبی مفہوم میں نہیں بلکہ اپنے مخصوص مفہوم میں۔ اس کے نزدیک یہ ایک خاص طرح کا ذہنی آرٹ (intellectual art) ہے نہ کہ وحی والہام کے ذریعہ معلوم شدہ کوئی واقعی حقیقت۔ اس مذہب کی اہم ترین خصوصیت، ایک مفکر کے الفاظ میں، خدا کی جگہ انسان کو بٹھانا (transfer of seat from god to man) ہے۔ اسی لیے اس جدید مذہب کو انسانیت (humanism) کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر الکس کیرل کی کتاب جو پہلی بار 1935ء میں شائع ہوئی وہ اسی سلسلہ کی ایک کوشش ہے۔ اس کتاب کو اگر چہ اس طرز فکر کے مختلف لوگوں کا نمائندہ نہیں کہا جا سکتا، مگر غالباً اس موضوع پر یہ جامع ترین کتاب ہے جو ایک سائنس داں کے قلم سے خالص سائنسی انداز میں لکھی گئی ہے اور جس میں اس پہلو سے تاحال دریافت شدہ حقائق کا نہایت عمدہ جائزہ موجود ہے۔ "سائنس اور ٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقی کے باوجود انسان مشکلوں میں گرفتار ہے۔" یہ ایک سوال ہے جو موجودہ دنیا کے سوچنے والے ذہنوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مذہب کے انحطاط کی وجہ سے ایسا ہوا ہے مگر دوسرے لوگ جو مذہب میں یقین نہیں رکھتے، وہ دوسرے انداز سے سوچتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جامد مادے کے علوم میں جس طرح ترقی ہوئی ہے اسی طرح حیاتیاتی علوم میں ترقی نہیں ہوسکی اور اسی کا نتیجہ ہے، جو ہم اپنی زندگی میں بھگت رہے ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ حیاتیاتی علوم میں اب اس سے زیادہ شدت کے ساتھ تحقیق وتفتیش کا کام جاری ہونا چاہیے جیسے اب تک ہوتا رہا ہے۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر الکس کیرل (Alexis Carrel) کی کتاب انسان نامعلوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page