Urdu book · مذہب اور سائنس

دورِ جدید کا مذہب۔ تعارف

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

کم از کم ایک سو سال تک کسی رکاوٹ کے بغیر علم انسانی کا مطالعہ جاری رہے۔ موجودہ سوسائٹی میں تمام دماغی کام کرنے والوں کو ایک مرکز پر جمع ہو کر کام کرنا چاہیے تا کہ سب مل کر ایسا غیر فانی دماغ پیدا کریں جس کے اندر اپنے مستقبل کو سوچنے اور اس کو بنانے کی پوری طاقت موجود ہو۔ اس کے بعد ہی انسانی ترقی کے دائمی نظریات حاصل ہو سکتے ہیں۔ (صفحات 76-264) اوپر جو کچھ لکھا گیا یہ ڈاکٹر کیرل کے الفاظ میں ان لوگوں کے خیالات کا خلاصہ ہے جو خدائی مذہب کو چھوڑ کر اس کی جگہ ایک انسانی مذہب بنانا چاہتے ہیں۔ کیرل نے خود بھی اپنی اس ضخیم کتاب میں انسانی علم کا جائزہ لیا ہے اور اس کے معلوم اور نا معلوم گوشوں کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی تین سو صفحے کی کتاب کو ان الفاظ پر ختم کرتا ہے: ”انسانیت کی تاریخ میں پہلی بار ایک بوسیدہ تمدن اپنے انحطاط کے اسباب معلوم کرنے کے قابل ہوا ہے۔ سائنس کی عظیم طاقت پہلی بار اس کے قبضہ میں آئی ہے۔ کیا ہم اس علم اور اس طاقت کو استعمال کریں گے۔ ماضی کے عظیم تمدنوں کے لیے جو انجام مقدر رہا ہے، اس سے ہمارے بچنے کی واحد امید یہی ہے۔ ہماری بدقسمتی، ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے، اب ہم کوئی شاہراہ پر آگے بڑھنا ہے۔“ (صفحہ 298)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page