جائزہ
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
جائزہ اس فکر کا ہم جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر بنیادی خامیاں موجود ہیں۔ 1۔ پہلی بات یہ کہ مادی علوم اور انسانی علوم میں بنیادی فرق ہے اور یہی فرق بتاتا ہے کہ انسان کبھی بھی اپنی ذات کو اس طرح نہیں سمجھ سکے گا جس طرح وہ مادہ کے ظاہری اوصاف کو سمجھ لیتا ہے۔ صورت حال یہ نہیں ہے کہ انسانی علوم پر کام نہیں ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ انسانی علوم پر تحقیق اور غور و فکر کی تاریخ مادی علوم سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ مگر اس کے باوجود اس شعبہ میں ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی اور مصنف کے الفاظ میں صورت حال یہ ہے کہ : ”ایک مادہ پرست اور ایک روحانیت پسند دونوں سوڈیم کلورائڈ (نمک) کے ایک ٹکڑے کی تشریح پر متفق ہو جاتے ہیں۔ لیکن انسانی ہستی کے بارے میں ان کی رائے ایک دوسرے سے نہیں ملتی۔“ (ص 17) ابھی تک کسی بھی تحقیق نے یہ امکان پیدا نہیں کیا ہے کہ مستقبل میں یہ صورتحال باقی نہ رہے۔ پھر کس بنا پر امید کر لی جائے کہ مستقبل میں آدمی اپنی زندگی کے راز کو معلوم کر لے گا۔ مصنف نے ان لوگوں پر تنقید کی ہے جو مادی دنیا سے متعلق معلومات کو انسانی ہستی پر چسپاں کرنا چاہتے ہیں، وہ لکھتا ہے: ”حرکیات حرارت کا دوسرا قانون یعنی آزاد شدہ قوت کے پھیلاؤ کا اصول سالمات کی سطح پر کام آ سکتا ہے۔ مگر اس کو نفسیات میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ یہاں کم کوشش اور زیادہ آرام کا اصول منطبق ہوتا ہے۔ شعری جذب و دفع کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader