جائزہ
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
قوت اور نفوذی دباؤ کے تصورات سے ان مسائل پر کوئی روشنی نہیں پڑتی جو شعور سے تعلق رکھتے ہیں۔ نفسیاتی مظاہر کو خلیوں کی فعلیات یا کوانٹم میکانکس کی اصطلاحات میں بیان کرنا محض الفاظ کے ساتھ کھیلنا ہے۔ “(ص 43) مگر جب وہ کہتا ہے کہ مادی علوم کی طرح انسانی علوم بھی ہمارے لیے قابل دریافت ہیں، تو وہ دراصل انیسویں صدی کے میکانکی ماہرین فعلیات (mechanistic physiologists) کے نظریہ کو دوسری شکل میں دہرا دیتا ہے۔ کیونکہ انسان کے بارے میں جو حقیقی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں وہ صرف وہی ہیں جو وصفی (descriptive) نوعیت کی ہیں، جو انسان کے مادی پہلو سے متعلق ہیں، اس لیے جو لوگ مذہب کو الگ کر کے انسان کو سمجھنا چاہتے ہیں، ان کے تمام انسانی نظریے اسی مادی عنصر کو پورے انسان پر چسپاں کر کے بنائے جائیں گے اس طرح عملاً اُن میں اور انیسویں صدی کے مادیین میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ 2۔ جیسا کہ صاحب کتاب نے اعتراف کیا ہے، مختلف علوم کے الگ الگ ماہرین کے اجتماع سے انسانی علم کی دریافت نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے ایک جامع شخص کا ہونا ضروری ہے: ”اس طرح کی جامعیت مختلف شعبوں کے ماہرین خصوصی کی کانفرنس کر کے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اس کو تو ایک جماعت کے بجائے ایک شخص ہی انجام دے سکتا ہے۔ کوئی عمدہ آرٹ کبھی آرٹسٹوں کی کمیٹی کے ذریعہ وجود میں نہیں آیا ہے۔ نہ مختلف محققوں نے اجتماعی کوشش سے کوئی زبردست انکشاف کیا ہے۔ علوم کا اجتماع جو انسانی واقفیت کو ترقی دینے کے لیے درکار ہے، وہ ایک ہی دماغ میں ہونا چاہیے ۔ “(ص 55)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader