Urdu book · مذہب اور سائنس

جائزہ

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر اس قسم کے کسی جامع العلوم شخص کا پایا جانا اب تک کی صورت حال کے مطابق بالکل ناممکن ہے۔ کیونکہ انسان محدود عمر اور بڑھاپے کے لازمی قانون کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ ابھی تک کسی درجہ میں بھی کوئی ایسا طریقہ دریافت نہ ہو سکا جس سے بڑھاپے کوروکا جا سکے یا موت کو ٹالا جا سکے۔ اس طرح ایک شخص کو کام کرنے کی جو عمر ملتی ہے وہ کسی ایک شعبہ کی کامل مہارت کے لیے ناکافی ہے۔ کجا کہ اسی محدود عمر میں سارے علوم کی مہارت حاصل کی جاسکے۔ مصنف نے پچیس سال کے مطالعہ کو سارے علوم میں دستگاہ پیدا کرنے کے لیے کافی قرار دیا ہے، یہ ایک حیرت انگیز جسارت ہے۔ مارکس صرف اقتصادیات کا مطالعہ کرنا چاہتا تھا، اور اس میں اس نے اپنی بہترین عمر کے 35 سال لگا دیے، مگر اس کے باوجود اس کا مطالعہ مکمل نہیں ہوا۔ اس طویل مطالعہ کے باوجود وہ اپنی مجوزه کتاب (سرمایہ) کی صرف ایک جلد لکھ سکا۔ پھر کس بنیاد پر یقین کر لیا گیا ہے کہ سارے علوم کی مہارت کے لیے 25 سال کا مطالعہ کافی ہو جائے گا۔ پھر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ انسان کی حقیقت اتنی پیچیدہ ہے اور وہ ایک مفکر کے الفاظ میں ایسا مجموعہ اضداد (mixture of opposites) ہے کہ اب تک کی معلومات کے مطابق ہم یہی قیاس کر سکتے ہیں کہ اس کے بارے میں کوئی غیر مشکوک اور ہم آہنگ رائے قائم کرنا کسی انسان کے لیے محال ہے۔ کمتر واقفیت کی صورت میں تو بیشک ایک شخص کے اندر وہ یقین پیدا ہو سکتا ہے جس کو مصنف نے دھندلا اعتماد (illusive confidence) کہا ہے۔ (ص 231) مگر معلومات میں اضافہ ہوتے ہی اتنے متضاد اور مختلف النوع سوالات سامنے آجاتے ہیں کہ ان کے درمیان توافق قائم کرنا اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page