Urdu book · مذہب اور سائنس

جائزہ

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

سب کو ملا کر کسی ایک حتمی رائے پر پہنچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف شعبوں کے خصوصی علماء کی رائے اکثر ایک ہی چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہیں مثلاً واٹسن (Watson) اور نظریہ کردار کے دوسرے قائلین (behaviourists) یہ دعویٰ ہے کہ موروثی صفات کوئی چیز نہیں۔ انسان کو تعلیم اور ماحول کے ذریعے کسی بھی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس نظریے توالد و تناسل کے قائلین (geneticists) کا مطالعہ انہیں یہ بتاتا ہے کہ موروثیت ہی ایک انسان کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے اور قوموں کی نجات تعلیم و تربیت میں نہیں بلکہ عمدہ انسانی نسل پیدا کرنے میں ہے۔ ایسی حالت میں یہ قیاس کرنا بہت غیر حقیقی مفروضہ ہوگا کہ کوئی یا چند انسان ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو علم انسانی کے بیشمار شعبوں کا خصوصی مطالعہ کریں اور اس کے باوجود ان کے ذہن میں وہ اختلافات رونما نہ ہوں جو الگ الگ خصوصی مطالعہ کرنے کی صورت میں، مختلف اشخاص کے درمیان پیدا ہوتے ہیں۔ 3- مصنف نے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا ہے کہ انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق ہے اور یہ چیز اس کو تمام مادی اشیاء سے الگ کر دیتی ہے۔ کسی مادی چیز کے مطالعہ سے اگر ہمیں ایک بات معلوم ہو تو ہم اس کو صداقت سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ یقین ہے کہ اسی نوعیت کے تمام مادے انہی حالات میں ہوں تو وہ ٹھیک اسی واقعہ کو دہرائیں گے۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان ذی ارادہ ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں ہے کہ ہر آن اپنے آپ کو بدل دے۔ مصنف کے الفاظ میں: جامد مادے کے علم اور زندگی کے علم میں ایک عجیب فرق ہے۔ ہیئت، میکانکس اور طبیعیات کی بنیاد ایسے تصورات پر ہے جن کو نہایت اختصار اور خوش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page