Urdu book · مذہب اور سائنس

جائزہ

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلوبی کے ساتھ ریاضیاتی زبان (mathematical language) میں بیان کیا جاسکتا ہے۔۔ حاتیاتی علوم کی یہ صورت نہیں ہے جو لوگ زندگی کے مظاہر کی تحقیق کرتے ہیں وہ گویا ایک ایسے طلسمی جنگل میں داخل ہوتے ہیں جہاں رنگ برنگ کے بیشمار درخت مسلسل طور پر اپنی جگہ اور اپنی شکل بدلتے رہتے ہیں اور جہاں سے نکلنا بہت ہی دشوار ہوتا ہے، حقیقتوں کی کثرت کی وجہ سے ان کی عقل کچھ کام نہیں کرتی۔ ان کو وہ کچھ بیان تو کر سکتے ہیں مگر جبرو مقابلہ کی مساواتوں میں ان کی تعبیر نہیں کر سکتے۔‘‘ (ص 15) یہی وجہ ہے کہ انسانی علم کی کوئی ایسی تشریح حاصل کرنا جو سب پر اپلائی ہو، ناممکن ہے۔ دراصل انسانیت کے سارے مسائل کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کے ارادے پر قابو پایا جائے۔ تا کہ وہ اپنے ارادہ سے وہی کرنے لگے جو ہم چاہتے ہیں۔ پارو ہاؤس میں ایک بٹن دبانے سے شہر کے سارے قمقمے روشن ہو سکتے ہیں مگر انسان کے لیے کوئی ایسا قانون ناممکن ہے جو سب پر یکساں طور پر نافذ ہو جائے۔ انسان خود ہی اپنے آپ کو اپنے ارادہ سے بدلتا ہے، کوئی خارجی عمل اسے تبدیل نہیں کر سکتا۔ 4۔ یہ نقطہ نظریہ فرض کرتا ہے کہ بد اخلاقی، بد دیانتی اور جرائم ایک قسم کی دماغیاور عصبی بیماری‘‘ ہے اور اس کا علاج شفاخانوں میں اسی طرح ہو سکتا ہے جیسے پھوڑے، پھنسی اور زکام و بخار کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ مصنف لکھتا ہے: ’’دماغی سرگرمی کی طرح اخلاقی حس بھی بظاہر جسم کی ساخت اور اس کے افعال کی حالت پر منحصر ہے۔ یہ حالات ہماری نسیجوں اور ہمارے دماغ کی طبعی ساخت کا نتیجہ ہوتے ہیں نیز یہ ان عوامل کی وجہ سے بھی پیدا ہوتے ہیں جو نشو و نما

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page