پہلا سفر
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلا سفر میں اپنے کمرہ میں بیٹھا ہوا کچھ لکھنے پڑھنے میں مشغول تھا کہ ایک جانا پہچانا چہرہ اندر داخل ہوا۔ زنگین تہمد کے اوپر سفید کرتا ، ہاتھ میں جھولا ، سر پر دو پلیا ٹوپی ، چہرے پر سنجیدگی کی حد تک اخلاص نمایاں۔ یہ مولانا عبد الرحیم میواتی تھے جو ضلع گوڑگاؤں کی جمعیۃ علماء کے ناظم اعلیٰ ہیں۔ ایک مخلص مسلمان سے ملاقات کسی بھی شخص کے لیے ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ مگر میں ان کو دیکھ کر قدرے گھبرا اٹھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ حسب معمول مجھ سے میوات چلنے کا تقاضا کریں گے۔ اور میں اپنی مصروفیتوں کی وجہ سے ایسے کسی سفر کا وقت نہیں نکال سکتا تھا۔ ” مجھے اس وقت دہلی میں کوئی کام نہیں تھا!“ مولانا عبد الرحیم صاحب نے سلام اور مصافحہ کے بعد کہنا شروع کیا ” اصل میں میں گوڑگاؤں آیا تھا۔ یہاں اس لیے آگیا کہ اگر آپ چلنے کے لیے آمادہ ہو جائیں تو اپنے ساتھ آپ کو میوات لے چلوں۔“ میں نے حسب معمول معذرت شروع کر دی۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ میرا دل میری زبان کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ میں جانتا تھا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے۔ مگر یہ احساس دل پر چوٹ بن کر لگ رہا تھا کہ ” تم ایک مخلصانہ دعوت کو کب تک ٹھکراتے رہو گے ، بالآخر اندرونی خلش غالب آئی اور میں نے میوات کے سفر کا ارادہ کر لیا۔ اب جب کہ سفر کی تکمیل کے بعد میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں ، مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ سفر گوناگوں وجوہ سے بے حد ضروری تھا۔ اور اس ضروری سفر کو جس چیز نے ممکن بنایا وہ صرف مولانا عبد الرحیم میواتی کا مخلصانہ اصرار ہے۔ ۲۔ اپریل ۱۹۶۹ء کی صبح کو حسب قرارداد ٹھیک ۵ بجے مولانا عبد الرحیم صاحب میرے کمرے میں موجود تھے۔ ان کے ساتھ مولانا نور محمد چندی نی بھی آگئے تھے۔ فجر کی نماز سے فارغ ہو کر تین آدمیوں کا یہ قافلہ بذریعہ بس میوات کے لیے روانہ ہو گیا۔ ہماری پہلی منزل نوح تھی۔ نوح ضلع گوڑگاؤں (ہریانہ) کا ایک قصبہ ہے ، یہاں مولانانیاز محمد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ موصوف مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں اور مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پرانے ساتھیوں میں ہیں۔ ۱۳۶۲ھ میں دیوبند سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader