تمہید
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
رہتا ہے۔ نئے ہندوستان میں میو اب اسی دوسرے معنی میں طاقت ور ہیں، اس کے سوا کسی اور معنی میں وہ طاقت ور نہیں ۔ جاٹوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ جاٹ انھیں میووں کے پڑوس میں رہتے ہیں۔ مگر میوؤں کے برعکس ، ان کے اندر ہم آہنگی اور حقیقت پسندی کا مزاج پایا جاتا ہے۔ ایک میو شاعر نے جاٹ کی نفسیات کو طنزیہ طور پر ان الفاظ میں بیان کیا ہے : جاٹ کہے سن جاٹنی یا ئی گاؤں میں رہنا اونٹ بلیلے گئی، ہاں جی ہاں جی کہنا یعنی جاٹ نے اپنی بیوی سے کہا کہ ہم کو اسی گاؤں میں رہنا ہے اس لیے ہم کو موافقت کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ اگر گاؤں کا کوئی آدمی کہے کہ اونٹ کو بلی اٹھا لے گئی تو اس سے بھی اختلاف نہ کرو، بلکہ کہو کہ ہاں صاحب ٹھیک ہے ۔ میو شاعر نے یہ بات اگر چہ بطور طنز کہی ہے ، مگر جاٹ اور میو کے مزاجی فرق کو بتانے کے لیے یہ بالکل درست ہے ۔ اور اسی مزاجی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک گروہ کو نیا زمانہ ترقی کی طرف لے جارہا ہے اور دوسرے فریق کو نئے زمانے نے بربادی کے سوا کچھ اور نہیں دیا۔ وحید الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader