پہلا سفر
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
فراغت کے بعد پانچ سال نظام الدین میں رہے ۔ بعد کو مولانا محمد یوسف صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مشورہ سے نوح میں آکر قیام فرمایا۔ " مولانا الیاس صاحب کی دعوت کے بارے میں کچھ بتائیے " میں نے سوال کیا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بتایا کہ مولانا فرمایا کرتے تھے کہ مجھے دو چیزوں کو زندہ کرنا ہے : ۱۔ اول ترتیب قائم کرنا۔ الاہم فالاہم کے اصول پر دین میں جو چیزیں جس درجہ میں مطلوب ہیں اس کے لحاظ سے انہیں رواج دینا۔ مولانا یہ بھی فرماتے تھے کہ یہ ترتیب چھوٹی ہوئی چیزوں کے لحاظ سے قائم ہوگی۔ ۲۔ دوسری چیز ہے طرز کو زندہ کرنا۔ مولانا کے نزدیک اس کا مطلب یہ تھا کہ صحابہ کے زمانے میں دین کو سیکھنے سکھانے کا جو طریقہ تھا، اس کو رائج کرنا، چونکہ صحابہ کرام چل پھر کر تبلیغی کام کرتے تھے اس لیے آپ نے بھی نقل وحرکت پر زور دیا۔ "غیر مسلموں میں تبلیغی کام کے سلسلے میں مولانا کا تصور کیا تھا " میں نے دریافت کیا۔ مولانانیاز محمد صاحب نے بتایا کہ موجودہ تبلیغی کام کو وہ غیر مسلموں میں دعوت دین کے کام کی تمہید سمجھتے تھے۔ مسلمان اس وقت اغیار کو دعوت دینے کے اہل نہیں ہیں۔ موجودہ تبلیغی کام سے ان میں استعداد پیدا ہوگی۔ نوح میں " بنگلہ والی مسجد " آزادی سے پہلے قصبہ کی سب سے زیادہ آباد مسجد تھی ۔ یہ پورا محلہ مسلمانوں کا تھا۔ مگر تقسیم کے بعد تمام مسلمان یہاں سے چلے گئے ۔ مسجد گدھوں اور بندر وں کا اڈہ بن گئی۔ مولانا نیاز محمد صاحب جو جمعیۃ علماء ضلع گوڑگاؤں کے صدر بھی ہیں، انہوں نے یہاں آکر قیام کیا۔ مسجد کی صفائی کرائی ، اس کی مرمت کی، اس سے ملحق زمین اس کے لیے حاصل کی اور مسجد کو آباد کیا۔ ۱۹۶۵ء سے یہاں ایک مدرسہ قائم کرکے دینی خدمات انجام دے رہے ہیں اس مدرسہ میں بچوں کی ابتدائی تعلیم اور درس نظامیہ کی تعلیم کا پورا انتظام ہے ۔ نوح میں مسلمانوں کا ایک اسکول ہے جو برین میوہائی اسکول کے نام سے مشہور ہے (برین اس علاقہ کا ایک انگریز افسر مال تھا یہ اسکول ۱۹۲۳ء میں قائم ہوا۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ ۴۵ برس کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک وہ ہائی اسکول ہی پڑا ہوا ہے ، ابھی تک وہ کالج کی سطح کو نہ پہونچ سکا جب کہ اسی مدت میں اس علاقہ کی جاٹ برادری نے میوؤں کی سی حالت سے آغاز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader