Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

اور بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ یہ ساری چیزیں دوکان سے حاصل ہوتی ہیں۔ آپ لوگوں نے دکانداری کو بالکل یہ غیر قوموں کے حوالے کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ لوگ جانوروں کی طرح محنت کر کے اپنے کھیتوں پر جو پیسہ پیدا کرتے ہیں اس کو چیزوں کی خریداری میں ”دوسروں“ کی دوکانوں پر الٹ آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ زراعت کے علاوہ دوسرے معاش کے ذریعوں کو چھوڑنے کی وجہ سے آپ سود کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ جب کھیت کی پیداوار آپ کی ضروریات کی کفالت سے جواب دیدیتی ہے تو آپ کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوتا کہ بنیے سے جا کر سودی قرض لیں اور اس طرح اپنی ضرورتیں پوری کریں۔ حتی کہ مجھے معلوم ہوا کہ آپ لوگ دینی سفروں کے لئے بھی مہاجن سے سودی قرض لیتے ہیں۔ یہ بے حد دکھ کی بات ہے۔ آپ اگر زراعت کے علاوہ دوسرے معاشی ذریعوں کو بھی پکڑتے رہتے تو آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ پھر میں نے ان لوگوں کو بڑیڈ کی مسجد کی طرف توجہ دلائی جو گاؤں کی مسجد ہونے کے باوجود اس حال میں نظر آتی ہے کہ مٹی کا فرش اور مٹی کی دیواروں کے اوپر چھپر پڑا ہوا ہے۔ اس میں نہ کوئی سائبان ہے نہ وضو وغیرہ کا انتظام۔ میں نے کہا کہ مسجد اسلام کی شوکت کا نشان ہوتی ہے اسی لئے اس کے منارے ہماری عمارتوں سے بلند بنائے جاتے ہیں۔ آپ لوگوں نے اپنے کو نمازی تو بنا لیا مگر اس قابل نہیں بنایا کہ اپنی بستی کی مسجد کو اس طرح تعمیر کر سکیں کہ وہ دیکھنے والوں کے لئے اسلام کی عظمت و بلندی کا نشان نظر آئے۔ آپ کو جس طرح اس قابل بننا ہے کہ آپ دوسرے پر بار بنے بغیر اور سود وغیرہ کی لعنت میں مبتلا ہوئے بغیر اپنی معاش حاصل کر سکیں اسی طرح آپ کو اس قابل بھی بننا ہے کہ آپ دین کی ان تمام ضرورتوں میں اس کے معاون بن سکیں جو سرمائے کے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں۔ یہ مسجد اپنی خستہ حالی کے ساتھ آپ کی غیرت کے لئے چیلنج ہے اور اس چیلنج سے آپ اسی وقت عہدہ بر آ ہو سکتے ہیں جب کہ آپ ”زمیندارہ“ کے روایتی گھروندہ سے نکلیں۔ عشاء کی نماز پڑھ کر مسجد کے باہر نکلا تو رات کافی بھیگ چکی تھی۔ مسجد کی مغربی سمت میں پوری بستی گہری تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ سر کے اوپر پھیلا ہوا آسمان جگمگاتے ہوئے تاروں کے ساتھ ایسا نظر آرہا تھا جیسے وہ آنکھیں پھاڑ کر اس عجیب و غریب دنیا کو دیکھ رہا ہو۔ صبح ۵ بجے اٹھا تو دوسرا منظر تھا۔ ۲۵ویں تاریخ کا چاند مشرق کی سمت سے بلند ہو کر بڑیڈ کی اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page