پانچواں سفر
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
اسم بامسی بستی کو اپنی ہلکی روشنی کے ساتھ گو یار ات کی تاریکی سے نکال رہا تھا۔ گھڑی کی ایک سوئی چھ پر تھی اور دوسری بارہ پر کہ مسجد سے اللہ اکبر، اللہ اکبر کی آواز بلند ہوئی ۔ اور یہ خاموش بستی اچانک اذان کی آواز سے گونج اٹھی۔ آدھ گھنٹہ بعد فجر کی نماز ہوئی ۔ نماز سے فارغ ہو کر جب ہم مسجد کے باہر نکلے تو چاروں طرف خوب اجالا پھیل چکا تھا۔ عشاری کی نماز کے بعد میں نے جس مسجد کے باہر تاریکی ہی تاریکی پائی تھی وہاں فجر کے بعد روشنی ہی روشنی دکھائی دے رہی تھی۔ دل نے کہا " خدایا ، تو جو ہر روز تاریکی کو روشنی میں تبدیل کرتا ہے، اس مصیبت زدہ قوم کی تاریکیوں کو بھی اجالے میں تبدیل کر دے۔ " بڑ بد میں میں نے بھیک جی کے مزار کو دیکھا جو تین سو برس پہلے یہاں گزرے تھے۔ تلاش بسیار کے باوجود مقبرہ کی عمارت پر کہیں کوئی کتبہ نہیں ملا۔ مولانا حسن خاں (۳۵ سال ) جو میرے ساتھ تھے ، انھوں نے بھیک جی کے کچھ اشعار سنائے۔ جن میں سے دو یہ ہیں ۔ ہری ہری کو دیکھ کے ہر کو بھول گیا کتنے باغ جہاں میں بھیک جی لگ لگ سوکھ گیا دھندلے میں دھن او بچے بچوں پنکھے میں پون بن دھندرے آئے بھیک جی دھرنے دیگا کون بڑ بید کا حال سناتے ہوئے یہاں کے بعض لوگوں نے مجھے بتایا کہ ۱۹۶۳ ء میں جب یہاں ڈاک خانہ قائم کیا گیا تو اس کی سخت مخالفت کی گئی ۔ اسی طرح یہاں گورنمنٹ نے اسپتال قائم کرنے کی منظوری دیدی مگر اس کی سخت مخالفت ہوئی حتی کہ پنچایت میں ریزولیوشن منظور کر کے بھیجا گیا کہ یہاں اسپتال کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ دس سال پہلے بڑ بید کے مقابلہ میں نسبتاً چھوٹے مقام ۔ گوکل پور ۔ میں یہ اسپتال قائم کیا گیا جو اب تک وہاں چل رہا ہے ۔ یہ باتیں اتنی عجیب تھیں کہ میرے لئے ان کا یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے سوچا ۔ " وہ آخر کس شکل و صورت کے لوگ ہوں گے جو اس بات کے مخالف ہوں کہ ان کی بستی میں ڈاک خانہ اور ہسپتال قائم کیا جائے ۔ " مگر جلد ہی مجھے اس کا جواب مل گیا۔ رات کو میری تقریر کے بعد مولانا عبدالرحیم صاحب نے کچھ گفتگو کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader