Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

دامن میں وہ قوم بسی ہوئی ہے جس کو میو کہتے ہیں ۔ مولانا فقیہ الدین صاحب نے بتایا کہ جامع اللغات میں میو کے معنے لکھے ہوئے ہیں ۔ ایک بہادر اور جاہل قوم یہ اس قوم کی بے حد با معنی تعریف ہے ، کسی قوم کا بہادر ہونا اس قوم کو تمام دنیوی و اخروی سعادتوں کو حاصل کرنے کے قابل بنا دیتا ہے ۔ مگر یہ قوم صرف اس لئے اپنے عظیم امکانات کو حاصل کرنے سے محروم ہے کہ وہ جاہل رہ گئی ۔ اسے نہ اپنا شعور ہو سکا اور نہ زمانے کا ۔ اگر یہ قوم علم کی حامل ہو جائے تو اس کی بہادری کے ساتھ اس کا علم مل کر اس کو دنیا کی ایک انتہائی جاندار قوم بنا سکتا ہے ۔ یہ ایک پہاڑ ہے جس کو اپنی بلندی اور صلابت کا احساس نہیں ۔ کاش یہ اپنے آپ کو جان سکے ۔ میو قوم کے چاروں طرف کھڑے ہوئے پہاڑ اس کو صدیوں سے دنیا کی قوموں میں ایک کو ہ پیکر قوم بننے کا پیغام دے رہے ہیں مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ یہ پہاڑ جیسا سبق ابھی تک کوئی نہیں سن سکا اور نہ قوم کے اندر اس کی طرف کوئی توجہ پیدا ہوئی ۔ ۳ جنوری کی شام کو ۵ بجے بڑ بیڈ پہنچا ۔ یہ میرے رفیق سفر مولانا عبدالرحیم صاحب کا وطن ہے ۔ ان کے والد میاں جی عبدالغفور صاحب سے ملاقات میرے لئے خصوصی طور پر خوشی کا باعث ہوئی ۔ موصوف سادگی اور اخلاص کی تصویر ہیں ۔ قدیم زمانہ کے بے ریا مسلمانوں کی ایک یادگار ہیں ۔ جن کے نمونے اب تلاش کرنے کے باوجود کہیں نہیں ملتے ۔ یہاں کی مسجد میں عشاء کی نماز سے پہلے مجھ سے تقریر کی فرمائش کی گئی ۔ میں نے کہا کہ میوات میں یہ دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے کہ یہاں دینی بیداری پیدا ہوئی ہے ۔ لوگوں کے چہروں پر داڑھیاں ہیں ، ہاتھ میں تسبیح ہے وہ مسجدوں میں نماز پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ مگر اسی کے ساتھ جب میں دیکھتا ہوں کہ یہاں کے لیے شمار لوگ سودی قرضوں میں مبتلا ہیں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کے ایک ضروری پہلو کی طرف انھوں نے بالکل توجہ نہیں دی ہے ۔ اور وہ ہ زمانہ کے لحاظ سے اپنے کو با عزت زندگی کے لئے تیار کرنا ۔ میں نے کہا کہ میو لوگ تعلیم کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے نتیجہ یہ ہے کہ ان کی جہالت نے دوسری قوموں کو موقع دیا کہ وہ انھیں خوب لوٹیں ۔ اسی طرح میو لوگ صرف زمیندارہ کو معاش کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور وہ بھی خالص پرانے طریقہ کے مطابق ۔ اب اگر سیلاب آ جائے یا قحط پڑ جائے تو وہ بالکل خالی ہاتھ ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ آدمی کو صرف غلہ کی ضرورت نہیں ہوتی اسی کے ساتھ اس کو زندگی گزارنے کے لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page