Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں انہوں نے کہا کہ ہمارے میوت زمانہ سے اتنے پیچھے ہیں کہ بستی کے اندر ڈاک خانہ اور ہسپتال قائم کیا جائے تو اس کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ سن کر ایک بوڑھا شخص بول اٹھا۔ ”ہم نے کہا ضرورت پڑی ہے۔ ہمارے کون سکھ ہط آو ہاں۔“ یہ چاہت خاں تھے جو پانچ بار تبلیغ کے تحت باہر جا چکے ہیں (چار بار چلہ اور ایک بار ہم ۳ دن)، دلی، بھوپال، امر و بہ میرٹھ ان کا دیکھا ہوا ہے۔ تبلیغ میں میوات کا پورا علاقہ گھوم چکے ہیں۔ ”یوپی میں چلہ دیو، بھوپال میں چلہ دیو۔۔“ انہوں نے کہا۔ میں نے پوچھا کہ یوپی میں کن کن مقامات پر آپ گئے۔“ ”میرے تو یاد نامیں جی۔“ انہوں نے سادگی کے ساتھ جواب دیا۔ مزید سوالات کے جواب میں انھوں نے کہا ”پانچ بار تبلیغ میں گیا۔ پر سیکھو سکھو کچھ نامیں “ اس گفتگو کے کچھ دیر بعد چاہت خاں دوبارہ میری قیام گاہ پر آئے ۔ ” مولوی صاحب “ انھوں نے کہا ” اخبار میں نالکھ دیلو کہ کچھ سیکھو سکھو نا ہیں۔ نہیں تو اثر برو پڑے گو۔ پھر دنیا تبلیغ میں نا جاوے گی۔“ یہ بات چاہت خاں نے اتنی سادگی اور اخلاص سے کہی کہ میں نے سوچا ”اگر انھوں نے واقعۂ کچھ نہ سیکھا ہو جب بھی انھوں نے بہت بڑی بات سیکھی ہے اور وہ ان کا ز دہ جذبہ اعتراف ہے جو ان کے اس جملہ میں جھلک رہا ہے۔ ان کو جب میرے ساتھی نے میواتی زبان میں بتایا کا اوپر کے جملے میں نے ان کے بارے میں لکھے ہیں تو انھوں نے عاجزانہ لہجہ میں کہا، ”اللہ جانے کیسے کیسے بکھے گو ہم تو پور اگنہگار ہیں۔“ یہاں میں علا دین (رنگریز) کے گھر گیا پہاڑ سے متصل ان کا خس پوش مکان بس اس اعتبار سے مکان کہا جا سکتا ہے کہ اس میں ایک انسان رہتا ہے۔ ورنہ جہاں تک اس کی مکانیت کا سوال ہے اس کو جانور کا کھوہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ انھوں نے جس اخلاص کے ساتھ مجھے روٹی اور چائے پیش کی اس نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ میں نے شوق سے ان کے ناشتہ میں شریک ہوتے ہوئے کہا ” بڑی لذیذ روٹی ہے۔“ ”جی عجیب کہاں“ وہ سادگی اور شرمندگی کے ساتھ بولے۔ میں نے عمر کے بارہ میں دریافت کیا تو ان کا جواب تھا ”عمر کا بارہ میں موئے پتو نا ہے۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page