Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

علاء الدین پھیلا بالکل ان پڑھ ہے۔ اس کے پاس زمین بھی نہیں ، موٹے کھدر پر، جس کو یہاں کی زبان میں ریزی کہتے ہیں، لحاف کی چھپائی کا کام کر کے گزر بسر کرتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سال میں صرف ایک مہینہ انھیں چھپائی کا کام ملتا ہے۔ اس مفلسی میں بھی وہ بہت سے میوؤں کے لیئے اتنے قیمتی ہیں کہ وہ ان کے برتن تک چرائے جاتے ہیں۔ اپنی تمام بے سروسامانی کے باوجود علاء الدین کے چہرے پر ایک اطمینان ظاہر ہو رہا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بیوی بچوں کے انتقال کر جانے کی وجہ سے اپنی ذات کے سوا اس کے اوپر کوئی خرچ نہیں۔ یہاں چند ہندو بیٹے ہیں۔ وہ نہ صرف خوشحال ہیں بلکہ جاہل میوؤں کے مقابلہ میں بہت زیادہ باشعور بھی ہیں۔ ٹھاکر لالی بڈیڈ کے واحد شخص ہیں جن کے پاس ٹریکٹر ہے اور جنہوں نے آئل انجن کے ذریعہ اپنی زمین پر آبپاشی کا پمپ لگا رکھا ہے۔ میں ان کے گھر جاکر ان سے ملا۔ دوسرے نسبتاً کم عمر " خوش حال چند " ہیں۔ وہ مجھے سن کر خود ملنے آئے اور میں پھر باز دید کے لئے ان کے گھر گیا۔ انھوں نے اپنے عجیب و غریب واقعات بتائے۔ انھیں خاندانی حالات اچھے نہیں ملے تھے مگر انھوں نے اپنی لیاقت سے بہت ترقی کی۔ بڈیڈ اور اس علاقہ کے بارہ میں انھوں نے کہا ہم تو سمجھتے ہیں کہ آزادی ابھی ہمارے لئے نہیں آئی ہے۔ یہاں نہ سڑک ہے نہ بجلی ہے نہ کوئی سرکاری افسر کبھی یہاں کا حال دیکھنے کے لئے آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس علاقہ کی سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ یہاں سڑک نکالی جائے ۔ ان کے بیان کے مطابق پنگواں اور بیواں کے درمیان سڑک بنا دی جائے تو یہ علاقہ بھی بقیہ آزاد ہندوستان سے مل جائے گا ( اب یہاں سڑک اور بجلی آچکی ہے ، اگر چہ ہندوستانی انداز میں) خوش حال چند کے دو بچے ہیں جن کو وہ تعلیم دلاتا چاہتے ہیں " بجائے تر انداز یک جائے ۔ " انھوں نے کہا " مگر یہ بچے جہاں تک پڑھیں گے انھیں پڑھاؤں گا۔ " ان کی خواہش ہے کہ اپنے ایک بچے کو الہ آباد انگلش سکول میں پڑھائیں اور اس کے بعد انگلینڈ بھیج کر اعلیٰ تعلیم مکمل کرائیں۔ مگر بچہ کی ماں اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ خوش حال چند کے یہاں سے میں واپس ہو رہا تھا کہ میرے ساتھی نے کہا۔ آیئے آپ کی ملاقات یہاں کے سب سے بڑے میو سے کرائیں ۔ ہم ایک مکان کے سامنے پہنچے۔ ایک طرف بندھی ہوئی بھینسیں اور بیل غلاظت پھیلانے میں مشغول تھے دوسری طرف ایک بڑھا شخص حقہ پینے میں محو تھا۔ اس کے اوپر اتنا معمولی لباس تھا کہ اس کو دی کے " جھلی والے " بھی ناخوشی ہی سے پہننا پسند کریں گے۔ یہ کمل خاں تھے جو بڈیڈ میں ایک سو پندرہ ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔ انھوں نے میرے بیٹھنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page