پانچواں سفر
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لئے ایک مونڈھا پیش کیا جس پر چڑیوں نے بیٹ کر کے اپنا حق استراحت ثبت کر رکھا تھا۔ کمل خاں کو یہاں کا لکھ پتی زمیندار کہنا چاہئے۔ مگر ان کا حال یہ ہے کہ معمولی مزدوروں کی طرح سارا خاندان کھیت میں بیٹھا رہتا ہے۔ میں نے کہا ٹھاکر لال کے پاس آپ سے کم صرف ستر ایکڑ زمین ہے اور اس نے ٹیوب ویل لگا رکھا ہے پھر آپ کیوں نہیں لگواتے۔ " پانی تو نکلے ہی نا " انھوں نے نیوز بان میں جواب دیا۔ میں نے کہا ٹھاکر لال نے تین جگہ بورنگ کرائی آخر وہ کامیاب ہو گئے۔ اسی طرح آپ بھی کیجئے۔ اس میں آپ کو اتنا فائدہ ہو گا کہ اس کا خرچ نفع کے ساتھ تھوڑے دنوں میں نکل آئے گا۔ مگر ان کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی۔ کمل خاں کا کنبہ بہت بڑا ہے۔ میں نے کہا لڑکوں اور پوتوں کو تعلیم دلائیے مگر وہ یہی کہتے رہے کہ پڑھ کر کیا ہو گا۔ میں نے کہا ایک ہی لڑکے کو پڑھائی کی طرف لگائیے۔ آپ کو خدا نے اتنا دیا ہے کہ آپ اعلیٰ ترین تعلیم تک ان کا خرچ اٹھا سکتے ہیں۔ مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے۔ ان کے نزدیک لڑکوں کا مصرف بس یہ ہے کہ مزدوروں کی طرح کھیتی میں جتے رہیں۔ پڑھائی ان کے نزدیک کوئی مسئلہ نہیں۔ اسی بستی میں خوش حال چند اپنے لڑکے کو یورپ تک پڑھانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور یہیں مسلمان میو کے لئے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ وہ اپنے بچے کو مکتب بھیجے تو کس لئے بھیجے۔ چوہدری عظمت خاں سرپنچ (نیم کھیڑا) سے ملاقات ہوئی سمجھ دار اور سنجیدہ آدمی ہیں۔ اور کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے چوہدری طیب حسین خاں ایڈوکیٹ کی بہت تعریف کی۔ طیب حسین پچھلے سال اسی حلقہ سے ہریانہ اسمبلی کے لئے الیکشن لڑے تھے۔ مگر آپس کے اختلافات کی وجہ سے معمولی ووٹوں سے ناکام ہو گئے۔ بڈ یڈ کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی زمین شور ہوتی جا رہی ہے۔ مولانا حسن خاں نے بتایا کہ کسی زمانہ میں بڈیڈ کی زمین اتنی اچھی پیدا وار دیتی تھی کہ یہاں رئیوں کا رشتہ کرنا لوگ فخر سمجھتے تھے ۔ مگر اب صورت حال بدل گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مسئلہ کا واحد حل اوٹ بندی ہے۔ مگر میواتی اتنے بے شعور میں کہ اس طرف توجہ نہیں دیتے۔ اگر اوٹ بندی کر کے بارش کا پانی جگہ جگہ روک دیا جائے تو نہ صرف مزید زمینوں کا متاثر ہونا رک جائے جو شور زمینوں سے بہہ کر آئے ہوئے پانی سے خراب ہو رہی ہیں بلکہ خود جو شور زمینوں پر بارش کے میٹھے پانی کے رکنے سے ان کی شوریت چند برس میں ختم ہو جائے۔ انھوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader