Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

بتایا کہ اوٹ بندی کرنا اور ڈ بینچ بنانا شور زمینوں کی اصلاح کا بہترین طریقہ ہے ۔ میو قوم کی جہالت سے یہ امید تو نہیں ہے کہ وہ خود سے اس تدبیر کو اختیار کریں گے۔ البتہ اگر حکومت اپنے انتظام کے تحت اسے کر آئے تو یہ ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے تحت حکومت میں محلے قائم ہیں جو دوسرے مقامات پر اوٹ بندی کراتے ہیں مگر معلوم نہیں کیوں اس علاقہ کو حکومت چھوڑے ہوئے ہوئے۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بہترین فصل پیدا کرنے والا علاقہ ہمیشہ کے لئے برباد ہو جائے ۔ بڈیڈ میں ایک عجیب و غریب میو ہے جس کا نام روڈ ہے۔ وہ سو بیگھ کا بسوہ دار ہے مگر اس کو اور اس کے بیوی بچوں کو دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ ہجری دور کا کوئی خاندان لاکر میوزیم میں رکھ دیا گیا ہے۔ اس کا گھر انسانی رہائش گاہ کے مقابلہ میں جانوروں کے بھٹ سے زیادہ مشابہہ ہے۔ اس کا حال سن کر اور اس کے گھر کو دیکھ کر میں نے کہا یہ اتنی بڑی زمین کا مالک ہے ، اس کے پاس کوئی خرچ بھی نہیں۔ یہ اپنا پیسہ کہاں رکھتا ہو گا ۔ ” یہ اپنے ٹوٹ درخت کے پھوپر میں رکھتا ہے “ میرے ساتھی نے کہا ” اور پھر ایک روز اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نوٹ گلھری کھا گئی ۔ “ آج جنوری ۷ ۱۹۷ء کی ۴ تاریخ ہے ۔ اس وقت دن کے ۱۰ بجے ہیں اور میں بڈیڈ کے پہاڑ پر بیٹھا ہوا ہوں ۔ میں نے یہاں لوٹے میں پانی منگو ا کر وضو کیا اور ایک پتھر پر دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کی کہ ” خدا یا میں بہت گنہ گار ہوں ، تو میرے گناہوں کو معاف فرما ۔ اور مجھ سے اس برباد شدہ امت کی اصلاح و احیار کا کام لے لے “ میرے سامنے وسیع پھیلا ہو ا میدان ہے۔ حد نظر تک کھیت سبزہ سے ڈھکے ہوئے ہیں ۔ نیم اور کیکر کے درخت جگہ جگہ اس طرح بکھرے ہوئے ہیں جیسے مخملی فرش پر ہرے رنگ کے ابھرے ہوئے پھول بنا دیئے گئے ہوں ۔ کہیں کہیں سرسوں کے بسنتی پھول اور خالی زمینوں کا خاکی رنگ اس کے سادہ حسن پر رنگین چھٹ کا و کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ درمیان میں ادھر ادھر ارولی کی پہاڑیاں اس طرح نظر آتی ہیں جیسے قدرت نے اس حسین دنیا کی پاسبانی کے لئے سنتری کھڑے کر رکھے ہوں ۔ اوپر افق تک آسمان کی نیلی چھتری نہ صرف اس کے حسن کو دو بالا کر رہی ہے بلکہ اس میں عظمت دو قار کا اضافہ بھی کر رہی ہے ۔ یہیں میرے نیچے پہاڑی کے دامن میں ایک گاؤں آباد ہے ۔ ٹیڑھے میڑھے راستوں پر اجڑے ہوئے مکانات جن کی بڑی تعداد خس پوش جھونپڑوں کی شکل میں ہے ۔ چند مکانات پختہ اور سفید نظر آتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page