پانچواں سفر
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
بنالوں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ میں نے دوکان کے اندر جھانک کر دیکھا۔ یہ ایک غار نما کوٹھری تھی ۔ جس میں تلاش کے باوجود میں یہ جانتے میں ناکام رہا کہ اس کے اندر وہ کون سا ”سودا‘‘ ہے جس سے وہ دوکاندا ری کر رہا ہے۔ اس مسلمان میو کا نام پرانے طریقہ پر سہدیو ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس ۴۰ بیگھ زمین ہے۔ مگر اس میں ”اب بھی پانی بھر و پڑو ہو‘‘ اس نے مایوس کن لہجہ میں کہا کہ ’’ ہم دس سال سے مصیبت ہی مصیبت میں ہیں ’’ کوئی فصل نہ ہو۔ نہ کا تک نہ بیساکھ۔‘‘ میں گاؤں کے باہر نکلا تو سہدیو کے مکان کے سامنے دور تک کھیتوں میں اب بھی جگہ جگہ پانی نظر آ رہا تھا۔ یہاں چرو اپے کے لباس میں ایک شخص لاٹھی لئے مویشی چرا رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ کمل خاں کا لڑکا ہری سنگھ ہے۔ (اس طرح کے یہاں کتنے میو ہیں جو اگر چہ مسلمان ہیں مگر نام سے لے کر معاشرت تک کوئی چیز ان میں مسلمان جیسی تلاش کرنا مشکل ہے ) ہری سنگھ جو بڑیڈ کے سب سے بڑے مسلمان زمیندار خاندان کا ایک فرد ہے ، اس سے میں نے پوچھا کہ یہ پانی کھیتوں میں کتنے دن سے ہے ۔ مگر وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔ جہالت اور تہذیب سے دوری نے اکثر میوؤں کا یہی حال کر رکھا ہے۔ ۵ جنوری کی شام کو ہم فیروز پور بھر کا ( ضلع گوڑ گاؤں) پہنچے ۔ ’’ بھر‘‘ کے معنی بھر نا کے ہیں۔ چونکہ اس قصبہ کے قریب پہاڑوں سے بہتا ہوا ایک چشمہ آتا ہے اسی لئے اس کی نسبت سے اسے فیروز پور بھر کا کہتے ہیں۔ پہاڑ کی بھیا نک بلندیوں کے در میان بل کھاتی ہوئی سڑک تجارہ ( ضلع الور ) کی طرف چلی جا رہی ہے۔ اس سڑک سے متصل پہاڑی چشمہ ہلکی موسیقی کے ساتھ نا معلوم مدت سے بہتا چلا آرہا ہے۔ پہاڑ کے اوپر جگہ جگہ اجڑی ہوئی خاموش مسجدیں اپنے بنانے والوں کا مرثیہ پڑھتی ہوئی کھڑی ہیں ، جنھوں نے پہاڑوں کی بلندیوں پر مسجدیں بنا دیں مگر اسلام کو بلندی و عظمت کے مقام پر کھڑا نہ کر سکے۔ ایک مقام پر ایک چھوٹا سا غار بھی ہے جو اللہ کی کوٹھری کے نام سے مشہور ہے۔ دو طرفہ پہاڑیوں کے درمیان (جن کی مجموعی چوڑائی تین میل ہے ) اونچی نیچی سڑک سے گزرتے ہوئے ہم تقریباً چار میل پہنچے تھے کہ وہاں ایک آباد دنیا نظر آئی۔ یہ مہادیو کا استھان ہے۔ یہاں مندر ہے۔ دھرم شالے ہیں۔ جانوروں اور انسانوں کے لئے قیام کی اور ستانے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں۔ پیپل اور بر گد کے سائے میں بسی ہوئی اس دنیا میں بے شمار ہرے ہرے طوطے چہچہار ہے تھے۔ کہیں کہیں مور اپنی خوبصورت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader