Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی کو اس کی طرف توجہ نہیں ہوئی۔ میوؤں کے لئے شہد کے معنی صرف یہ ہیں کہ کسی چٹان سے جب وہ شہد کا ایک چھاتالٹکا ہوا دیکھینس تو اس کو کسی طرح لکڑی سے گرائیں اور پھر پھٹتے اور مکھیوں کو برباد کر کے اس سے تھوڑا ساغیر صاف شہد نچوڑ لیں۔ اگر میوات کے پہاڑی علاقوں میں جدید طرز پر شہد کی مکھی پانے کو رواج دیا جائے تو وہاں اس کا بہترین کاروبار ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح جب میں بِڈیڈ کے پہاڑ پر بیٹھا ہوا تھا میرے ساتھی مولانا حسن خاں ایک بوٹی اکھاڑ کر لے آئے۔ " یہ روکھڑی خون فوراً روک دیتی ہے اور زخم کو بہت جلد اچھا کر دیتی ہے “ انھوں نے کہا۔ انھوں نے اپنے پاؤں کا ایک نشان دکھایا۔ یہ ایک گہرے زخم کا نشان تھا۔ جب یہ زخم لگا تو میں نے یہی روکھڑی پیس کر لگادی ۔ چنانچہ اسی وقت خون بند ہو گیا ۔ اور چند روز میں زخم بالکل اچھا ہو گیا۔“ اسی طرح انھوں نے اور بعض بوٹیاں دکھائیں اور پیچیدہ امراض میں ان کے طلسماتی فائدے بتائے۔ یہ سن کر میں نے سوچا کہ " یہ لوگ جو یہاں زمینوں کے شور ہونے اور سیلاب میں برباد ہونے کا مرثیہ لئے بیٹھے ہیں ان کے پہلو میں قدرت نے ان پہاڑوں کو اقتصادی خوش حالی کا زبردست پیغامبر بنا کر کھڑا کر دیا ہے، اگر ان بوٹیوں کی تحقیق کی جائے اور ان کو کاروباری انداز میں چلایا جائے تو اس علاقہ میں ان کی بدولت دو اسازی کی بڑی بڑی صنعتیں وجود میں آسکتی ہیں۔ مگر ان کاموں کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے۔ اور تعلیم کو میو قوم نے پہلے ہی سے اپنے لئے حرام کر رکھا ہے "۔ فیروز پور کو نواب فیروز الدین نے آباد کیا تھا۔ موجودہ نواب لوہارو انھیں کی باقیات میں سے ہیں۔ تقسیم سے پہلے یہ ایک مسلم بستی تھی۔ مگر 1947ء کے ہنگامہ میں یہاں کے مسلمان پورا قصبہ خالی کر کے چلے گئے ۔ اب وہاں زیادہ تر شر نار تھی آباد ہیں۔ اس تاریخی قصبے کے گرد پتھروں کی زبردست شہر پناہ اس دور کو یاد دلاتی ہے جب کہ لوگ بستیوں کے گرد اونچی اونچی فصیلیں بنا کر سمجھتے تھے کہ انھوں نے اپنے کو محفوظ کر لیا ہے۔ حالانکہ زمانہ انھیں ایک ایسے مستقبل کی طرف لے جا رہا تھا جبکہ بستیوں اور میدانوں میں اپنی حفاظت کے سامان مہیا کرنے کی ضرورت تھی ۔ چنانچہ جب نئے دور کا انقلاب آیا تو وہ لوگ جو صدیوں سے اس شہر پناہ میں اپنے کو محفوظ سمجھتے چلے آ رہے تھے، انھیں یہ سنگی دیوار زمانہ کی دستبرد سے محفوظ نہ رکھ سکی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page