Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مقصور شہر کے باہر کثرت سے قدیم طرز کے بنے ہوئے گنبد نظر آتے ہیں۔ یہ قدیم زمانہ کے امراء اور وُسا کے مقبرے ہیں جنہیں یہ تو معلوم تھا کہ وہ اپنی مردہ لاشوں کو کس طرح صدیوں تک کے لئے زمین پر محفوظ کردیں۔ مگر وہ یہ نہ جان سکے کہ زندہ انسانوں کو محفوظ کرنے کے لئے وہ کیا تدبیر اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کے لئے دونوں ممکن تھے۔ مگر انہوں نے اس کو زیادہ ضروری سمجھا کہ اپنے مردہ ڈھانچوں کے لئے محفوظ پتھریاں کھڑی کردیں، زندہ انسانوں کی حفاظت کے لئے پتھریاں بنانے کا کام مستقبل کی ان نسلوں کے لئے چھوڑ گئے، ہوماضی کی غفلت کے نتیجہ میں سرے سے تعمیری مواقع ہی سے محروم ہو چکی ہوں۔ فیروز پور میں سب کچھ لٹنے کے بعد اب بھی ایک چیز باقی ہے۔ یہ یہاں کی جامع مسجد ہے جو اپنی وسیع تعمیرات اور بلند میناروں کے ساتھ وسط شہر میں اسلام کے آخری نشان کے طور پر کھڑی ہوئی دور سے نظر آتی ہے۔ اس مسجد کو نواب احمد بخش نے ۱۲۴۴ھ میں بنوایا تھا۔ میں مسجد کے احاطہ میں داخل ہوا تو اس کے جنوبی سمت میں ایک وسیع عمارت نظر آئی۔ جس کے بند دروازوں پر ایک شاندار بورڈ لگا ہوا ہے۔ یہ مدرسہ اسلامیہ کا بورڈ تھا جو ”انجمن محافظ الاسلام“ کے زیر اہتمام قائم ہے۔ اس کو اس علاقہ کے مشہور مصلح مولانا محمد حسن صاحب نے قائم کیا تھا جن کی ذاتی رہائش گاہ اب بھی مدرسہ کے پڑوس میں اپنی سابق شکل میں موجود ہے۔ ”کیا یہ بند ہے“ میں نے اپنے رفیق سفر مولانا حسن خاں سے دریافت کیا۔ انھوں نے ۱۹۷۰ء سے سات سال تک یہاں رہ کر تعلیم حاصل کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ فارسی کی ابتدا سے لے کر مختصر معانی تک میری تعلیم یہیں ہوئی ہے۔ ۱۹۵۶ء میں وہ یہاں سے چھوڑ کر دہلی چلے گئے اور بقیہ تعلیم مدرسہ امینیہ میں حاصل کی۔ مولانا حسن خاں نے بتایا کہ تقسیم کے بعد اگر چہ فیروز پور کا قصبہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا۔ مگر مدرسہ اس کے بعد بھی چلتا رہا۔ ”ہمارے زمانہ میں مدرسہ کافی عروج پر تھا“ انھوں نے کہا۔ لیکن ڈھائی برس سے خود مسلمانوں کے اختلاف نے اسے بند کر رکھا ہے۔ اس کا کیس عدالت میں پہنچ چکا ہے اور دونوں فریق یہ ثابت کرنے میں مشغول ہیں کہ اس پر کس کا حق ہے اور آئندہ کس کے قبضہ میں رہےے۔ ”قبضہ بحال رکھئے“ کا یہ ذہن جس کا مظاہرہ مدرسوں اور مسجدوں میں زور شور سے ہوتا رہتا ہے، کاش یہ اس سے باہر وسیع دنیا کے لئے بھی ہوتا تو ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی نوبت ہی نہ آتی۔ زمانہ ہماری تمام بڑی بڑی املاک پر قبضہ کرتا جا رہا ہے اور ہم ہیں کہ ہڈیوں کے لئے لڑ رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page