Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

۵ جنوری کی شام کو ہم مغرب کے وقت نصیر باس پہنچے۔ یہ الور ۔ دہلی روڈ پر دہلی سے ۶۵ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں ہم نے رات گزاری۔ نصیر باس تقریباً ۳۰ خانوادوں کی بستی ہے جو سب کے سب میو ہیں۔ خس پوش مکانات کے سامنے سڑک کے عین کنارے دو شاندار عمارتیں سب سے پہلے آنے والے کی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ ان میں سے ایک تو ’’تھٹری‘‘ ہے جو کسی میو بستی کی سب سے مقدس قومی جگہ ہوتی ہے۔ دوسری عمارت نو تعمیر مسجد ہے جو قدیم خام عمارت کے اوپر پختہ شکل میں بنائی گئی ہے۔ ’’یہ مسجد کتنے میں تیار ہوئی ہے‘‘ میں نے شہاب الدین صاحب سے دریافت کیا۔ جب انھوں نے بتایا کہ ’’سولہ سو روپے میں‘‘ تو مجھے بہت تعجب ہوا۔ کیونکہ اصل تعمیر کے لحاظ سے یہ مقدار بہت کم تھی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ گاؤں والوں نے خود رضا کارانہ طور پر کام کر کے اسے بنایا ہے اس طرح مزدوری کا خرچ پورا کا پورا بچ گیا۔ یہاں دیواریں اینٹ کے بجائے پتھر سے بنتی ہیں۔ جب ضرورت ہوئی گاؤں والوں نے دس دس گاڑیاں کھٹری کر دیں۔ اور پتھر لا کر ڈھیر کر دیا۔ یہ ایک معمولی گاؤں ہے۔ مگر گاؤں والوں کے اتحاد کا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں بجلی بھی آگئی اور انھوں نے کوشش کر کے سب سے پہلے مسجد کو بجلی کے قمقموں سے منور کیا۔ ۶ جنوری کو ۱۱ بجے ہم نوح (ضلع گڑگاؤں) پہنچے۔ یہاں ایک گھنٹہ مولانا نیاز محمد صاحب کے مدرسہ میں گذرا۔ جو نام کے اعتبار سے ’’مسجد بنگلہ والی‘‘ مگر حقیقت کے اعتبار سے جھونپڑے والی مسجد میں قائم ہے اب بھی اسی بے سرو سامانی کے ساتھ میرے سامنے تھا، جس طرح میں نے اسے ایک سال پہلے دیکھا تھا۔ البتہ مسجد کے سامنے ایک نئی دیوار سایبان بنانے کے لئے کھڑی تھی۔ معلوم ہوا کہ مولانا عتیق احمد (دہلی) اور مولانا جمیل احمد (نوح) کی فیاضی سے یہ تکمیل پذیر ہوئی ہے۔ اب یہ بغیر چھت کی دیوار کسی دیوار کسی اور صاحب خیر کا انتظار کر رہی ہے جو اس کو سایہ دار سائبان میں تبدیل کر دے۔ میں نے اپنی طبیعت کو آمادہ کیا کہ اس دیوار ہی کو دیکھ کر خوشی منالوں۔ کاش وہ دن بھی آتا کہ میں یہ دیکھ کر خوش ہوتا کہ میوات کے اس مرکزی مقام پر ایک شاندار دار العلوم کھڑا ہوا ہے۔ نوح میں حافظ محمد صدیق صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ تبلیغ کے بہت سرگرم کارکن ہیں۔ نوح آبائی وطن ہے مگر زیادہ تر نظام الدین میں رہتے ہیں۔ موصوف سے میوات اور تبلیغ کے بارہ میں بڑی قیمتی باتیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page