پانچواں سفر
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
معلوم ہو ئیں ۔ میوات میں تبلیغ کا کام تقریباً سے برس پہلے شروع ہوا ۔ مولا نا الیاس صاحب کے والد مو لا نا محمد اسمٰعیل صاحب ( وفات ۱۳۱۵ ھ / ۱۸۹۸ ء ) اس خاندانِ دعوت کے پہلے شخص ہیں جنھوں نے بنگلہ والی مسجد ( نظام الدین ۔ دہلی ) میں قیام فرمایا ۔ انھوں نے خود تو کبھی میوات کا سفر نہیں کیا مگر میوات سے قرب کی وجہ سے ان کے ” مدرسہ میں ۱۰ ۔ ۱۲ میواتی طالب علم برابر رہتے تھے “۔ مولا نا الیاس صاحب اور ان کی دینی دعوت از مولا نا سید ابو الحسن علی ندوی ص ۳۸ مولا نا اسمٰعیل صاحب کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے مولا نا محمد صاحب ( وفات ۱۳۳۶ ھ ) نے بنگلہ والی مسجد میں قیام فرمایا ۔ یہاں آپ نہ صرف مدرسہ میں میواتی نوجوانوں کو تعلیم دیتے رہے بلکہ انھوں نے میوات میں سفر کا سلسلہ بھی شروع کیا ۔ حافظ محمد صدیق صاحب کے بیان کے مطابق وہ تین بار قصبہ نوح آئے تھے جو دلی سے ۵۳ میل کے فاصلہ پر میوات کا پہلا مرکزی مقام ہے۔ مو لا نا محمد صاحب کے بعد یہ دعوتی اور تبلیغی وراثت مولا نا الیاس صاحب ( ۴۳ ۔ ۱۳۰۴ ھ ) کی طرف منتقل ہوئی ۔ انھوں نے میوات کو اپنی جد و جہد کا مخصوص مرکز بنالیا ۔ اور نوح تو وہ بے شمار بار آئے ہیں ۔ مدرسہ معین الاسلام سے متصل حافظ محمد صدیق صاحب کے حجرہ میں مولا نا کا قیام رہتا تھا۔ اس کمرہ میں وہ چار پائی اب بھی موجود ہے جس پر مولا نا الیاس صاحب آرام کرتے تھے ۔ جب مجھے یہ بات معلوم ہوئی تو میں اس چار پائی ( ڈھیلا ) پر جاکر لیٹا اور کچھ دیر تک تاریخ کے پچھلے اوراق کو تصور کی نگاہوں سے پڑھتا رہا ۔ نوح میں پہلے مسلمانوں کی ۵۰ ہزار آبادی تھی ۔ مگر ۱۹۴۷ء کے ہنگامہ میں قصبہ اس طرح برباد ہوا کہ اب مشکل سے ۵۰ خاندان مسلمانوں کے یہاں بستے ہوں گے ۔ میں نے رات یہاں مدرسہ معین الاسلام میں گذاری ۔ یہ مدرسہ تقریباً ۵۰ سال سے قائم ہے ۔ پہلے مکتب کی شکل میں تھا اب یہاں دورہ حدیث تک تعلیم کا انتظام ہے ۔ تقریباً پونے دو سو طالب علم اور ایک درجن اساتذہ ہیں ۔ یہ میوات میں عربی کا سب سے بڑا مدرسہ ہے ۔ مدرسہ کی پھیلی ہوئی عمارت اور تعمیر مسجد کا وسیع نقشہ بتاتا ہے کہ میوات کے دیگر مدار س کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader