Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

برعکس معین الاسلام کے وسائل غیر تسلی بخش نہیں ہیں مگر اس پر رونق اور آباد دنیا میں ترتیب اور نظم کے اعتبار سے وہی روایتی مشرقیت نظر آئی جس کو بدقسمتی سے اسلام سمجھا جانے لگا ہے ۔ مختلف لوگوں کی زبانی مولا نا الیاس صاحب کے ملفوظات سنے ۔ ان میں سے چند یہ ہیں ۔ ۱ جب مدرسے پکے تھے تو تعلیم پکی تھی ۔ جب مدرسے کچے ہوئے تو تعلیم کچی ہوگئی ( مولانا محمد عیسیٰ ) ۲ پہلے عوام میں طلب تھی اب نہیں رہی ۔ اس لئے علماء کو اب کنواں بن کر نہیں رہنا چاہئے بلکہ بادل بن کر برسنا چاہئے ۔ ( مولانا محمد اسحاق ) ۳ مولانا محمد صدیق صاحب نے بتایا کہ ایک بار کلکتہ کے کوئی صاحب نظام الدین آئے ۔ مولانا یوسف صاحب کی گفتگوسن کر انھوں نے کہا " معلوم ہوتا ہے حضرت جی اخبار بہت پڑھتے ہیں " مولانانے سنا تو فرمایا : ایسا نہیں ہے ۔ اصل میں اللہ تعالی نے مجھ پر کچھ کلیات کھول دئے ہیں ۔ جب بھی کوئی جزئی واقعہ میرے سامنے آتا ہے ، خواہ وہ کسی کی گفتگو سے معلوم ہو یا خط وغیرہ کے ذریعہ تو میں اس جزئیہ کو اس کلیہ سے جوڑ دیتا ہوں ۔ ۴ مولانا الیاس صاحب نے علماء کے لئے ۴ چلے (نو مہینے ) کا تبلیغی کورس رکھا تھا۔ مولانا یوسف صاحب نے اس کو تین سال کر دیا اور اس کی حکمت یہ بتائی کہ ایک سال ہندوستان میں رہ کر یہ لوگ دعوت کے اصول سیکھیں گے ۔ پھر ایک سال عرب جاکر صحابہ والے اخلاق کی تربیت حاصل کریں گے اور پھر یورپ میں جاکر ایک سال تک تبلیغ کریں گے ۔ مولانا کا خیال تھا کہ مشرقی ممالک مغرب کے اتنے مقلد ہو چکے ہیں کہ جب مغرب کے لوگ یہاں آئیں گے اسی وقت وہ تبلیغ کی طرف مائل ہوں گے ۔ ۵ میاں جی محمود خاں نے بتایا کہ مولانا الیاس صاحب سے میاں جی دین محمد گوالہ نے دریافت کیا " یہ تبلیغ اور جمعتہ ایک ہی بات ہے یا دو ہیں ۔ مولانا الیاس صاحب نے فرمایا ۔ " کیا سمجھنا چاہتے ہو ۔" انھوں نے جواب دیا۔ ہاں۔ فرمایا " وہ حکومت کی لائن سے دین کی خدمت کر رہے ہیں اور ہم نبوت کی لائن سے ۔ بات ایک ہی ہے ۔" مدرسہ معین الاسلام میں مولانا محمد علیٹھی صاحب ایک بے لوث شخصیت ہیں ۔ ان کے انتظام میں یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page