Urdu book · میوات کا سفر
پانچواں سفر
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
مدرسہ انشاءاللہ اور ترقی کرے گا ۔ ۴ جنوری کی صبح کو ہریانہ روڈ ویز پر ہم نوح سے دہلی کے لئے سوار ہوئے۔ اس وقت ٦ بجے تھے اور ابھی میوات کا یہ تاریخی قصبہ آخری شب کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہماری بس میوات کی سب سے بڑی شاہراہ پر دوڑ رہی تھی اور افق پر دھیرے دھیرے صبح کی سفیدی نمایاں ہوتی جارہی تھی۔ یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور ساری فضانے آفتاب کی روشنی سے جگمگا اٹھی۔ دل نے کہا میوات میں بھی کچھ درد مند لوگوں نے اسی طرح سفر کا ارادہ کیا ہے۔ بظاہر امکانات بے حد تاریک ہیں۔ پھر بھی ایک آنے والی صبح کی امید میں وہ راستہ ٹول رہے ہیں۔ کاش وہ صبح آئے ، کاشش یہ تاریکی بھی اسی طرح روشنی میں تبدیل ہو جائے جس طرح رات نے دن کی صورت اختیار کی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader