چھٹا سفر
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
چھٹا سفر ۲۴ دسمبر ۱۹۷۰ء کو قصبہ پہاڑی (ضلع بھرت پور، راجستھان) جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں مدرسہ عربیہ رحیمیہ (قائم شدہ ۱۹۰۶ء) واقع ہے، اس کو میں نے دیکھا تو ایسا محسوس ہوا گویا میں اینٹ اور گارے کے مجموعے کی شکل میں ہندوستانی مسلمانوں کی تصویر دیکھ رہا ہوں جو کبھی عالی شان قوم کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر آج ایسے کھنڈر کی شکل میں پڑی ہوئی ہے کہ اس کے اندر یہ حوصلہ بھی نہیں کہ قدیم ٹوٹی پھوٹی بنیادوں پر نئی تعمیر کی اینٹیں رکھ سکے۔ پہاڑی ایک تاریخی قصبہ ہے جس کے چاروں طرف قبروں اور قدیم عمارتوں کے پتھر اس طرح بکھرے ہوئے ہیں جیسے وہ سنگی کتاب کے اوراق ہوں جس کو زمانہ کے بے رحم ہاتھوں نے منتشر کر دیا اور اب وہ کسی دیوانہ کا انتظار کر رہے ہوں جو آئے اور ان کو دوبارہ جمع کر کے قدیم کھنڈروں کے نشانات پر نئی تعمیر کھڑی کرے۔ تقسیم سے قبل پہاڑی کے قصبہ میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ یہاں کی سرداری اور یہاں کا زمیندارہ سب ان کے قبضہ میں تھا۔ مگر تقسیم کے بھو نجال نے یہاں کی مسلم آبادی کو اس طرح اجاڑا کہ ان کی بیشتر تعداد پاکستان جانے پر مجبور ہو گئی۔ آج پہاڑی کی زمین پر ایک نیا قصبہ آباد ہے۔ قدیم طرز کے گھر و نوں کی جگہ جدید عمارتیں کھڑی ہو گئی ہیں۔ سڑک اور بجلی نے تمدن کے لوازمات کو قصبہ میں پہنچار ہے ہیں۔ بس سروس، اسکول، اسپتال، ڈاک خانہ، واٹر ورکس قائم ہو گئے ہیں ۔ نئے مواقع سے فائدہ اٹھا کر لوگ تجارتوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ مگر ان ترقیوں میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں ۔ قصبہ پر اور قصبہ کی تمام سرگرمیوں پر نئے آباد کاروں کا غلبہ ہے۔ مسلمان بے حیثیت ہو کر کونوں اور گوشوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ نئے انقلاب نے ان سے صرف قدیم مواقع ہی نہیں چھینے بلکہ وہ جدید مواقع جن کو وجود میں لانے میں وہ بھی ٹیکس دہندہ کی حیثیت سے برابر کے شریک ہیں ان سے استفادہ میں ان کا حصہ نہیں ۔ قصبہ میں جگہ جگہ مسلمانوں کی قبریں نظر آتی ہیں۔ جن کے اوپر پتھر کی بڑی بڑی سلیں اس طرح جمائی ہوئی ہیں جیسے وہ ان کی حفاظت کی ضامن بنا کر رکھی گئی ہوں ایسے سنگی مزارات سارے ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جب میں ان سنگی قبروں کو دیکھتا ہوں تو مجھ پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader