چھٹا سفر
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
عجیب تاثر ہوتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ لوگ بھی کیسے عجیب تھے، جنہوں نے اپنی لاشوں کو محفوظ کرنے کے لئے سنگی ضمانتیں قائم کر دیں مگر آنے والی زندہ نسلوں کے لئے موہوم تمناؤں کے سوا کچھ نہیں چھوڑا۔ اگر کوئی چیز ہے تو وہ ماضی کے قائدین کے شاندار تقریری الفاظ ہیں۔ جن کو یہ بد نصیب قوم اب بھی اس طرح سینہ سے لگائے ہوئے ہے جیسے وہ بنی اسرائیل کا مقدس تابوت ہو۔ وہ الفاظ جو اپنی معنویت کو آخری حد تک کھو چکے ہیں، یہ بے خبر قوم ان پر اب بھی اس طرح ایمان رکھتی ہے جیسے یہ الفاظ اچانک کسی روز تاریخ کے پر اسرار غار سے نکلیں گے اور دنیا میں معجزاتی انقلاب برپا کر دیں گے۔ قصبہ پہاڑی میں ایک مسجد ہے جس پر سن تعمیر ۱۰۶۰ ھ کندہ ہے۔ مگر یہاں اس سے زیادہ پرانی عمارتیں ہیں۔ قصبہ کی سب سے قدیم عمارت جو قصبہ کے سب سے زیادہ نمایاں اور اہم مقام پر کھڑی ہوئی ہے ۔ وہ ”دادا صاحب خاں پیر“ کی خانقاہ ہے جو نواب ہونے کے علاوہ بزرگ درویش بھی تھے۔ اور انہوں نے مسجد اور خانقاہ کی صورت میں ذکر و عبادت کا ایک بڑا مرکز تعمیر کیا تھا۔ یہ خانقاہ اب انتہائی خستہ ہو چکی ہے ۔ جب کہ مذکورہ بالا مسجد بالکل اچھی حالت میں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خانقاہ مذکورہ بالا مسجد سے بھی پہلے غالباً دسویں صدی ہجری میں تعمیر کی گئی ہوگی۔ مولانا محمد رحیم شاہ صاحب جو قصبہ پہاڑی کے قدیم باشندے ہیں، انہوں نے بتایا کہ خانقاہ آزادی سے قبل ہی کھنڈر ہو چکی تھی ۔ دن کے وقت وہاں جانور پناہ لیتے تھے۔ اور رات کے وقت چور اور اچکے وہاں چھپ کر مشورے کرتے تھے۔ ۱۹۴۷ء کے ہنگامہ میں جب پہاڑی سے مسلمانوں کا انخلا ہوا تو قصبہ کی جامع مسجد اور دوسری مسجدوں پر غیر مسلموں کا قبضہ ہو گیا۔ اس کے بعد ایسا ہو اک جامع مسجد پر جو غیر مسلم قابض تھا اس کی بیوی ( مقامی اصطلاح میں لُگائی ) کو کوئی اغوا کر لے گیا مولانا محمد رحیم شاہ صاحب یہاں دعا تعویذ کے لئے بہت مشہور ہیں۔ کسی نے مشورہ دیا کہ مولانا کے پاس جاؤ۔ وہ دہلی آکر مولانا سے ملا۔ مولانا نے مسجد پر قبضہ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ میری بیوی مجھ کو مل گئی تو میں مسجد خالی کر دونگا۔ مولانا نے دعا کی اور تعویذ لکھ کر دی ۔ خدا کے فضل سے اس کی بیوی اس کو واپس مل گئی اس کے بعد اس نے مسجد خالی کر دی ۔ یہ بھی اسلام کا ایک معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ایسی مخفی تاثیرات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader