Urdu book · میوات کا سفر

چھٹا سفر

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

رکھ دی ہیں کہ جب اہل اسلام کے ہاتھ میں کسی قسم کی کوئی مادی طاقت نہ رہ گئی ہو اس وقت بھی وہ کلام الہی کی معجزانہ کرامتوں کو دکھا کر نہ صرف عوام بلکہ خود قاہر و غالب طاقت کا دل جیت سکتے ہیں۔ اسلام اس وقت بھی ایک طاقت ہے جب ساری دنیا کے عقلا یہ فیصلہ کر چکے ہوں کہ اسلام کے پاس کوئی طاقت نہیں رہی۔ رات کے وقت ایک مقامی ہندو چودھری مولانا رحیم شاہ صاحب سے تعویذ لینے کے لئے آیا۔ باتوں باتوں میں اس نے کہا : "مولوی جی اس درگاہ کو تو چمن بنا دو آپ" میں نے یہ سنا تو میرے سامنے دینی اداروں کی تصویر پھر گئی ، جو آج کی متمدن دنیا میں ہر جگہ تیسرے درجہ کا حلیہ لئے ہوئے کھڑے ہیں۔ میں نے سوچا ، کاش یہ ممکن ہوتا کہ دینی ادارے ہر جگہ دینی چمنستان کی طرح نظر آتے۔ وہ نہ صرف آج کے تمدنی معیار پر پورے اترتے بلکہ اپنے حقیقی معنی اور مقصد کے اعتبار سے بھی ایسا چمن ہوتے جہاں لوگوں کو خوشبو اور رنگت ملتی۔ ان کو دیکھنے والا یہ نہ کہتا کہ " مولوی جی اس کو چمن بنا دو" ، بلکہ اس کی زبان سے یہ نکلتا : "مولوی جی تم نے تو خوب ہی چمن بنایا ہے میں تو اس کی خوشبو سے سرمست ہو گیا" قصبہ پہاڑی میں دادا صاحب خاں پیر کی خانقاہ جو اب " مدرسہ عربیہ رحیمیہ" بننے کی جد و جہد کر رہا ہے ، جائے وقوع کے اعتبار سے بہترین جگہ پر واقع ہے۔ سڑک کے مشرقی جانب بلندی پر قصبہ کی عمارتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ مغربی جانب خانقاہ ہے اور اس کے بعد ہموار کھیت ہیں جو دور پھیلی ہوئی پہاڑیوں تک چلے گئے ہیں۔ کھیتوں میں سرسوں کی فصل بنستی پھولوں کے ساتھ کھڑی ہے جن میں جگہ جگہ ابھرے ہوئے درخت فطرت کے اس حسن میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ میں مدرسہ کی عمارت کے باہر کھڑا ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے ایک طرف تمدن کے مظاہر ہیں اور دوسری طرف فطرت کا ازلی حسن ، اور درمیان میں مدرسہ عربیہ دونوں کے سرے ملانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس قسم کے مدارس میوات میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ جو قوم ان مدارس کی وارث ہے اگر وہ زندہ قوم ہوتی تو وہ ان کو اس طرح مرصع کرتی کہ وہ سیرگاہ کی شکل اختیار کر لیتے ، اور اسی کے ساتھ اپنی ہیئت سے اس بات کا درس بن جاتے کہ یہ ذہنی سرگرمیوں کا وہ مرکز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page