ساتواں سفر
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتواں سفر جنوری ۱۹۷۱ کے تیسرے ہفتے کے چند روز میرے میوات میں گذرے۔ میوات کوئی ضلع یا ریاست نہیں بلکہ ایک خاص جغرافی خطے کا نام ہے جہاں مسلمانوں کی وہ نسل بستی ہے جس کو میو کہتے ہیں۔ میوات، راجستھان اور ہریانہ اور کچھ پنجاب کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ ۲۲ جنوری کی شب اور دن کے کچھ گھنٹے میرے نگینہ ( ضلع گوڑگاؤں، ہریانہ ) میں گذرے۔ نگینہ ایک قصبہ ہے جو علاقہ میوات کے وسط میں ہے۔ نگینہ کے چاروں طرف ۲۵ ۔ ۲۶ میل کے مربع میں میوات واقع ہے۔ ہریانہ ہندوستان کی واحد ریاست ہے جس کے گاؤں گاؤں میں بجلی پہنچائی جا چکی ہے۔ ریاست کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا گاؤں بھی ایسا باقی نہیں جہاں بیسویں صدی بجلی کے ققنوں کے ساتھ طلوع نہ ہو چکی ہو۔ مگر اسی علاقہ میں ایک ایسی قوم بھی بستی ہے جو زمانہ سے اتنا پیچھے ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نے ابھی تک بیسویں صدی میں قدم ہی نہیں رکھا۔ یہ وہی قوم ہے جس کو عرف عام میں " میو " کہا جاتا ہے۔ نگینہ ۸۵ دیہاتوں کے درمیان ہے۔ ان دیہاتوں کے لوگ یہاں بازار کرنے آتے ہیں جن کی ۹۰ فی صد تعداد مسلمان ہوتی ہے۔ مگر بازار میں کوئی مسلمان دوکان نہیں۔ صرف ایک " کھوکھا " تھا، وہ بھی میں نے دیکھنا چاہا تو معلوم ہوا کہ بند ہو چکا ہے ! اقتصادی شعور سے یہ محرومی موجودہ زمانہ میں خودکشی سے کم نہیں۔ یہ تمام فسادات سے زیادہ تباہ کن ہے۔ مگر کس قدر عجیب بات ہے کہ مسلم قیادت کو اس کی خبر تک نہیں۔ اس کے لئے کچھ کرنا تو درکنار۔ یہاں " دارالعلوم " کے نام سے ایک مدرسہ قائم ہے جو مدرسہ سے زیادہ پناہ گزینوں کا بسیرہ معلوم ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے مدرسہ چلانے والوں کو " چندہ " مانگنے کے سوا کوئی اور ذریعہ نہیں معلوم۔ ورنہ اگر نگینہ میں کو آپریٹو بنایا جائے اور بازار کی مسلم خریداری کو منظم کر لیا جائے تو کسی سے ایک پیسہ لئے بغیر صرف اس اجتماعی نظم کی بدولت اتنی زیادہ آمدنی ہوگی کہ موجودہ چھپر پوش مدرسہ کی جگہ ایک عالی شان دارالعلوم کھڑا ہو جائے۔ ۲۴ جنوری کو ۱۱ بجے ہم گوبند گڑھ ( راجستھان ) پہنچے ۔ بستی میں داخل ہوئے تو ایک جگہ کچھ ہندو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader