ساتواں سفر
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
لڑکے کھڑے تھے ۔ " کیا تم پاکستانی ہو ؟ " ایک لڑکے نے پوچھا۔ یہ طنز نہیں محض سادہ سا سوال تھا۔ اسی طرح ایک بار ہم مییو بستی سے گزرے تو لڑکوں نے ہمیں دیکھ کر کہا تھا " ملاجی ! کہیں جلسو ہے "، گو یا اس علاقہ میں مذہبی حلیہ اور شیروانی اور پا جامہ میں آدمی ہو تو وہ غیر مسلم بچوں کی نظر میں " پاکستانی " اور مسلم بچوں کی نظر میں " تبلیغی ملا " ہے۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ یہ علاقہ ابھی زمانہ سے کس قدر پیچھے ہے ۔ گو بند گڑھ کے مغرب کی جانب قصبہ کے آخری کنارہ پر دو بوسیدہ دیواروں کے دوش ناتواں پر ایک چھپر رکھا ہوا ہے اور اس پر لکھا ہے : مدرسہ عربیہ زینت العلوم اگر مدرسہ کے نام کو اس کے قائم کرنے والوں کے ارادہ کا مظہر سمجھا جائے تو اس کا شکستہ ڈھانچہ اس کے وسائل و ذرائع کا آئینہ دار ہو گا ۔ اور اگر اس نمونہ کو اور وسیع کر دیجے تو اس میں پوری ملت اسلامیہ ہند کی کہانی عکس ریز ہوتی ہوئی دکھائی دے گی ۔ لفظی ناموں اور القاب کے اعتبار سے دیکھے تو ہم نے امامت و قیادت کا کوئی مقام اپنے سوا دوسرے کے لئے نہیں چھوڑا ہے۔ مگر حقیقت کی دنیا میں جو چیز ہمارے حصہ میں آئی وہ ایک ایسا " مدرسہ " تھا جس کا نام تو " زینت العلوم " ہو مگر جس کا عملی وجود ایک شکستہ چھپر کے سوا اور کسی چیز پر قائم نہ رہے ۔ مولانا رحیم شاہ صاحب کے الفاظ میں نام کے اعتبار سے " زینت العلوم " اور حقیقت کے اعتبار سے " زینت اچھپر "۔ یہ ایک مدرسہ نہیں بلکہ پوری قوم کی کہانی ہے۔ ۲۲ جنوری کی شام کو ہم الکھانی پہنچے اور وہاں رات گزاری ۔ راستہ میں حد نظر تک سرسوں کے کھیت پھیلے ہوئے تھے ۔ نہایت شاداب فصل بسنتی پھولوں کا تخنہ بنی ہوئی کھڑی تھی ۔ یہاں آب پاشی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر سرسوں ہوتے ہیں جو پانی کے بغیر خوب فربہ ہو جاتی ہے ۔ سوکھے کھیتوں میں جس طرح سرسوں کی شاداب فصل کھڑی تھی اس سے اندازہ ہو کہ زمین نہایت زرخیز ہے، اور اگر آب پاشی کا انتظام ہو جائے تو گیہوں اور دوسری چیزیں نہایت عمدہ پیدا کی جاسکتی ہیں ۔ الکھانی میں گاؤں کے باہر ایک مدرسہ قائم ہے ۔ یہ مدرسہ بھی مٹی کی دیواروں کے اوپر چھپر کی شکل میں کھڑا ہے۔ مگر مدرسہ کے بانیوں نے شوق ترقی میں اس کے نام کے لئے بھی " زینت العلوم " پسند کیا ہے ! ۲۳ جنوری کی سہ پہر کو ہم مبارک پور ( ضلع الور ) پہنچے اور دو گھنٹہ وہاں قیام کیا ۔ قصبہ کا بازار خرید اروں سے بھرا ہوا تھا۔ جدید تمدنی لوازم وہاں پہنچ کر لوگوں کو ترقی کے نئے نئے مواقع دیتے ہوئے نظر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader