ساتواں سفر
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
آ رہے تھے۔ مگر اس میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ بستی میں پانچ مسجدیں ہیں جن میں سے ایک میں پرائمری اسکول قائم ہو چکا ہے۔ تین مسجدوں میں وقف بورڈ کے تالے پڑے ہوئے ہیں اور ایک مسجد آباد ہے جس میں چھوٹا سا مدرسہ بھی ہے۔ مسجد میں عصر کی نماز کے لئے پہنچا تو وہاں ایک مجمع اکٹھا تھا۔ ایک صاحب سوٹ میں ملبوس کوئی افسر نظر آتے تھے اور بقیہ نصف درجن مسلمان تھے۔ باہم بحث جاری تھی۔ قصہ یہ تھا کہ مسجد کے عقبی دروازہ کی طرف مسلمانوں نے ایک معمولی سا چھپر ڈال لیا تھا۔ افسر صاحب جو دراصل مقامی سرپنچ تھے یہ کہہ رہے تھے کہ کئی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ مسلمان مسجد کے باہر نکل کر چھپر ڈال رہے ہیں، اس سے انھیں روکا جائے اور چھپر کو ہٹایا جائے۔ مسلمان اس کے جواب میں مختلف باتیں کہہ رہے تھے، مثلاً "یہ قبرستان ہے" اور "مسجد سے متعلق زمین ہے" وغیرہ۔ میں نے سرپنچ صاحب سے کہا کہ آپ جو چھپر ہٹانے کے لئے کہہ رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا یہ راستہ پر ہے۔ میں نے جائے وقوع کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سڑک کے پاس "راستہ" کی جو چوڑائی ہے اور آگے جو چوڑائی ہے، وہی تو درمیان میں ہوگی۔ پھر کون سی سواری آپ یہاں سے گزاریں گے جو ادھر اور ادھر تو دس فٹ ہو اور بیچ میں پہنچے تو بیس فٹ ہو جائے ۔ پھر میں نے کہا کہ یہاں پتھر کی قبریں موجود ہیں، پھر یہ کیسا راستہ ہے جہاں قبریں درمیان میں کھڑی ہیں ۔ سرپنچ صاحب نے کہا کہ یہ پنچایت کی زمین ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو صاف طور پر قبرستان سے اور قبرستان اور مسجد دونوں وقف بورڈ کے ہوتے ہیں نہ کہ پنچایت کے۔ آزادی کے بعد ہماری انتظامیہ کے اسی مزاج نے ملک کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ قصہ مبارک پور میں تقسیم سے پہلے "خان زادے" آباد تھے، جو یہاں لینڈلارڈ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی بڑی بڑی حویلیاں اور بیر کے بڑے بڑے (۵۰ بیگھ تک کے) باغات اب بھی ان کی نشانی کے طور پر موجود ہیں۔ مگر اسی مبارک پور میں آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ مسجد کی خود اپنی زمین پر چھپر اٹھانے کی بھی اجازت نہیں۔ کیسی عجیب میں ماضی کی وہ کامیابیاں جنھوں نے ہمیں اس ناکام حال تک پہنچایا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader