Urdu book · میوات کا سفر

ساتواں سفر

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۳ جنوری کی شام کو ننگلہ چراؤنڈا (ڈاک خانہ مبارکپور ضلع الور) پہنچے۔ یہ کوئی گاؤں نہیں بلکہ ایک خاندان کی نجی بستی ہے۔ عبد الغفار صاحب اور ان کے بھائی یہاں اپنے کھیتوں پر معمولی مکان بنا کر آباد ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ پہلے رسواڑہ کے بڑے زمیندار تھے۔ مبارکپور سے ایک میل کے فاصلہ پر واقع اس قصبہ میں اب بھی واحد پختہ حویلی اپنی بلند عمارتوں کے ساتھ کھڑی ہوئی بتا رہی ہے کہ ان کا ماضی کیا تھا۔ عبد الغفار صاحب کا خاندان پہلے اسی حویلی میں رہتا تھا اور اس کے آس پاس کی پونے دوسو بیگھ بہترین زمین ان کے قبضہ میں تھی۔ مگر تقسیم کے ہنگامہ میں وہ اپنی زمین اور اپنے مکان کو چھوڑ کر گٹور گاؤں چلے گئے۔ واپس آئے تو ان پر شر نار تھی قابض ہو چکے تھے۔ عبد الغفار صاحب کے خاندان کو حکومت نے دو میل کے فاصلہ پر ۵۵ بیگھ زمین دی ہے جو سابق زمین کے مقابلہ میں تیسرے درجہ کی بھی نہیں۔ وہاں ان لوگوں نے کچی دیواروں پر چھپر ڈال کر رہائش گاہ بنالی ہے، جس میں گھر کے تمام مرد اور عورت رات دن زندگی کی جد و جہد میں مصروف رہتے ہیں۔ عبد الغفار صاحب اور ان کے بھائیوں کی چھپر پوش کالونی (ننگلہ چراؤنڈا) دو پہاڑیوں کے درمیان واقع ہے۔ مشرق اور مغرب میں دور تک پھیلے ہوئے پہاڑی سلسلے قدرت کی سنگین لکیروں کی طرح کھڑے ہیں اور ان کے درمیان عبد الغفار صاحب کا خاندان جو خود اپنے ہی وطن میں پناہ گزیں بنا دیا گیا ہے، خاموش بسا ہوا اپنے نوشتہ تقدیر کا انتظار کر رہا ہے۔ اس طرح کی مثالیں اس علاقے میں بہت ملیں گی ۔ یہ دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ نئی دہلی کے حکمراں نعرہ لگا رہے ہیں کہ وہ ملک کی بدحالی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر بدحالی کا خاتمہ دستور میں تبدیلی یا پر یوی پرس کے خاتمہ سے نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کا راستہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ حق داروں کو ان کے حقوق دیئے جائیں۔ حضرت ابو بکر رض کے الفاظ میں ضعیف اس وقت تک حکومت کی نظر میں قوی ہو جب تک اس کا حق نہ دلایا جائے اور قوی اس وقت تک حکومت کی نظر میں ضعیف ہو جب تک اس سے دوسرے کا حق وصول نہ کر لیا جائے ۔ ملک کو برائی سے پاک کرنے اور اس کی بدحالی کو دور کرنے کا واحد راستہ یہی ہے باقی جو کچھ ہے، وہ سب نعرے بازی ہے۔ ۲۴ جنوری کی صبح کو میں رسواڑہ گیا اور وہاں شری کلونت سنگھ (۲۵ سال) سے ملاقات کی، جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page