Urdu book · میوات کا سفر

ساتواں سفر

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

عبد الغفار صاحب کی سابق زمین اور مکان پر بسے ہوئے ہیں۔ یہ ہائر سیکنڈری تک تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں۔ اس وقت ان کے پاس چالیس ایکڑ بہترین زمین ہے۔ انھوں نے آب پاشی کے لئے پمپ بھی لگایا ہے۔ انھیں ایک کامیاب کسان کہا جاسکتا ہے۔ ”ملک میں غلے کی کمی کیوں ہے؟“ میں نے کلونت سنگھ سے سوال کیا۔ ”بے ایمانی!“ انھوں نے فورا جواب دیا۔ ان کا خیال ہے کہ گورنمنٹ نے کسانوں کے لئے جو سہولتیں جاری کی ہیں، وہ محض دھوکا ہیں۔ کیونکہ رشوت خور اور نا اہل عملہ کی وجہ سے اس کا فائدہ عام کسانوں کو نہیں پہنچتا۔ البتہ عام کسانوں کے نام پر بڑے بڑے نیتا اور وزیروں کے رشتہ دار خوب فائدہ اٹھار ہے ہیں۔ ”میں تو خود اپنے اوپر بھروسہ کرتا ہوں۔ میں نے انجن اپنے پیسیر سے خریدا ہے، گورنمنٹ سے قرض نہیں لیا۔ اگر میں گورنمنٹ کے قرض کے چکر میں پڑتا تو دو ہزار کی چیز چار ہزار میں پڑتی۔“ انھوں نے کہا۔ ہندوستان میں گھومتے ہوئے اکثر میں ایک عجیب احساس سے دوچار ہوتا ہوں عوامی مقامات ہوں یا سرکاری دفاتر، ہر جگہ ایک ہی شکایت سننے میں آتی ہے اور وہ وہی ہے جس کو مسٹر کلونت سنگھ نے ”بے ایمانی“ سے تعبیر کیا ہے۔ میں سوچتا ہوں اگر ہر شخص کو بے ایمانی کی شکایت ہے تو وہ کون ہے جو بے ایمانی کر رہا ہے۔ اگر سب بے ایمانی کا شکار ہیں تو وہ کون ہے جو سب کو شکار بنارہا ہے۔ ۲۲ جنوری کو ہم یہاں سے واپس ہوئے تو بالقصد میں نے سڑک کار استہ چھوڑ کر پہاڑی کا راستہ اختیار کیا تاکہ براہِ راست اس دنیا کا تجربہ کرسکوں جو کیمرہ کی نگاہ میں بے حد حسین، مگر عملی زندگی کے لئے انتہائی پر مشقت ہے۔ یہاں مسافر جب نیچی گھاٹیوں، اونچی چٹانوں اور نا ہموار راستوں میں گم ہوتا ہے، تو اس کے لئے صرف ایک ہی حسین اور مسطح چیز باقی رہتی ہے اور وہ سر کے اوپر پھیلا ہوا نیلا آسمان ہے۔ دیوی کے کنڈ پر بیٹھ کر جب میں نے آس پاس کی دنیا پر نظر ڈالی تو حد نظر تک کہیں بھی تمدن کا کوئی نشان موجود نہ تھا۔ ہم پانچ انسانوں کا قافلہ پتھروں کی اس سنسان دنیا میں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہم زمین پر نہیں بلکہ چاند یا مریخ پر ہیں، جہاں خاموش فطرت کے سوا کوئی ہمارا استقبال کرنے والا نہیں۔ پہاڑیوں کے دامن میں جگہ جگہ سوکھے کنوؤں اور گری پڑی دیواروں کی شکل میں قدیم بستیوں کے نشانات نظر آتے ہیں۔ یہ ختم شدہ آبادیاں نہیں ہیں، بلکہ وہ آبادیاں ہیں جن کے باشندے پہاڑ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page