ساتواں سفر
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
سے اتر کر میدانوں میں آباد ہوگئے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے ان کی زندگی کا ذریعہ بھیڑ بکری یاں تھیں جن کی پرورش کے لئے پہاڑی مقامات زیادہ موزوں تھے ۔ مگر زمانہ کی تبدیلی سے جب ان کے اندر کھیتی باڑی کا شوق پیدا ہوا تو وہ میدانوں میں اتر آئے ۔ اگر کوئی چاہتا کہ تقریریں کرکے ان کو پہاڑوں سے اتار دے تو یہ ناممکن تھا۔ مگر زندگی کے حقائق نے جب زور کیا تو کسی قانون اور کسی تقریر کے بغیر وہ اپنے مانوف گھروں کو چھوڑ کر ہموار میدانوں میں آ بسے ۔ پر مشقت چڑھائی کے بعد ہم قدرت کے اس سنگی مینار کے اوپر پہنچ گئے جس کو مقامی زبان میں ”کالا پہاڑ “ کہتے ہیں۔ یہاں بیٹھ کر ر استھان کے وہ میدان ہمارے سامنے تھے جو حد نظر تک بنجر پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آزادی کا انقلاب بھی ان کو سر سبز نہ کر سکا۔ پہاڑی پر لڑکے اور لڑکیاں لکڑی کے گٹھڑ سر پر لئے ہوئے نیچے اترتے ہوئے نظر آئے ۔ ڈیڑھ دو روپیہ کی لکڑی ان کی پوری دن بھر کی کمائی تھی۔ یہاں وقت کتنا سستا ہے۔ جو لوگ ” پتھر“ کی اس دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں ان کے متعلق یہ امید کرنا کہ وہ زندگی کے کسی شعور سے بہرہ مند ہوں گے ، محض ایک لا حاصل امید ہے ۔ ”کالا پہاڑ “ کی آخری بلندی پر پہنچنے کے بعد پہاڑ کا احساس ختم ہو جاتا ہے ، یہاں لگ بھگ تین میل کی چوڑائی اور تقریباً ۲ میل کی لمبائی میں پھیلا ہوا ہموار میدان ہے جس کے اوپر آگے ہوئے جنگلی درخت ہی پہاڑ کا احساس دلاتے ہیں۔ چاروں طرف آسمان کے سروں تک ہموار میدان پھیلا ہوا ہے ۔ اس میدانی چوٹی پر بہت سے بڑے بڑے کام کئے جاسکتے ہیں ۔ فارسٹ کالج ، جڑی بوٹیوں کی ریسرچ کا سنٹر ، اسپتال ، صحت گاہ ، شہد کی مکھیاں پالنے کا فارم ، پولٹری فارم وغیرہ اور ان کے ذریعہ سے یہاں کے ہزاروں لوگوں کو روزگار دلا کر اس پچھڑے ہوئے علاقہ کو بلند ترین ترقی کے مقام پر پہنچایا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سب کام کون کرے ۔ پہاڑ کی اس ” پشت “ پر ایک چھوٹی سی بستی آباد ہے جس کا نام ہے ڈھڈیانی۔ یہاں ڈیڑھ درجن ”گوال “ ہیں جن کی پانچ چھ سو گائیں آباد ہیں۔ برسات میں جب چارہ زیادہ ہو جاتا ہے تو گالیوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader