ساتواں سفر
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
بھینسوں کی تعداد ڈیڑھ دو ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ یہاں ڈھاک کے پتوں کے بنے ہوئے مویشی گھروں کے طویل سلسلے کے سامنے میں نے دیکھا کہ گوبر کا ڈھیر پڑا ہوا ہے۔ ہر سال یہاں سینکڑوں ٹرک کھاد تیار ہوتا ہے۔ مگر سب کا سب ضائع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ پہاڑ کی بلندی سے نیچے اتارنے کا کوئی ذریعہ نہیں صرف گدھے یا اونٹ کے ذریعے ان کو نیچے لے جایا جا سکتا ہے جو بہت مہنگا پڑتا ہے۔ چنانچہ اس کھاد کا انجام یہ ہے کہ وہ یا تو برسات میں بہہ جاتی ہے یا گوالوں کے کبھی ختم نہ ہونے والے الاؤ میں جلتی رہتی ہے جو کھانا پکانے کے علاوہ سردیوں میں تپنے کا کام دیتے ہیں اور گرمیوں میں دیا سلائی کا۔ مویشیوں کی کھاد انتہائی قیمتی کھاد ہوتی ہے۔ مگر یہاں ہر سال سینکڑوں ٹرک کھاد اس طرح مسلسل ضائع ہو رہی ہے جیسے اس کی کوئی قیمت ہی نہیں ۔ کالا پہاڑ کو عبور کر کے اور تقریباً ۹ میل کی پر مشقت مسافت طے کر کے ہم دوسری طرف ہریانہ کے میدان میں اترے۔ یہاں پہاڑ کے دامن میں بسے ہوئے ایک گاؤں حسن پور بلونڈ میں رات گزاری۔ یہ میوؤں کا گاؤں ہے۔ یہاں بجلی آچکی ہے اور میوؤں کے سات ٹیوب ویل لگے ہوئے ہیں۔ عام طور پر لوگ اچھی کھیتی کرتے ہیں ، گاؤں کو جدید زراعت کے دور میں داخل کرنے کا سہرا زیاد تر محمد یوسف خاں صاحب کے سر ہے۔ جنھوں نے بجلی آنے کے بعد سب سے پہلا ٹیوب ویل لگایا اور نئے طریقوں کو استعمال کر کے معیاری کھیتی کر رہے ہیں ۔ میوات میں پردہ کا کوئی تصور نہیں ۔ ہل جوتنے کے سوا تمام معاملات میں عورتیں مردوں کے دوش بدوش کام کرتی ہیں۔ اگر آپ کسی کے یہاں مہمان ہوں تو آپ کو تعجب نہ کرنا چاہئے اگر آپ کا میزبان آپ کو زنان خانہ کے عین اس مقام پر لے جا کر کھانا کھلائے جہاں قریب ہی ایک کھلی کوٹھڑی میں عورتیں کھانا پکانے میں مشغول ہوں۔ بستی کے اندر اور گھروں کے باہر عام طور پر عورتیں کام کاج کے لئے ادھر ادھر آتی جاتی نظر آتی ہیں اور یہ صرف غریب خاندانوں کا حال نہیں بلکہ خوش حال خاندانوں کا حال بھی یہی ہے ۔ اگر عریانی اور جسمانی نمائش کو مستثنیٰ کر لیا جائے تو یورپ کی عورت اور میوات کی عورت میں کوئی فرق نہیں۔ مگر عام طور پر سماجی زندگی میں اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ عورتوں کا انتہائی سادہ بلکہ غیر خوش وضع لباس اور اسی کے ساتھ ان کا مکمل طور پر ڈھکا چھپا ہونا اور ان سب پر غض بھر، یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader