ساتواں سفر
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
چیزیں مل کر پردہ کی ضرورت کو اس حد تک پورا کر دیتی ہے کہ مشکل ہی سے کسی واقعی خرابی کی امید کی جاسکتی ہے۔ ۲۵ جنوری کی صبح کو جب کہ ہم بلونڈا میں آگ کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے، ایک چرواہا بکریوں کا ریوڑ لے کر نکلا۔ اس کو دیکھ کر ایک میوٴنے کہا: ”بنیا کا بیاج بکری روکتتی ہے!“ یہ جملہ میوٴں کی زندگی کی بہت عمدہ تصویر ہے۔ میوٴں کے یہاں اقتصادیات کار وایتی مفہوم صرف یہ ہے کہ ضروریات کے لئے بنیا سے سودی قرض لیتا رہے اور جب اصل اور سود کی رقم مل کر اتنی بڑھ جائے کہ اس کا قدیم طرز کا ”زمیندارہ“ بھی اس سے گلو خلاصی کے لئے نا کافی ہو تو وہ اپنے ایک لڑکے کو بکریوں پر لگا دے، اور وہ جنگلوں میں بکریاں پال کر قرض کی ادائیگی کرے۔ یہی صورت کسی اور قوم میں ہوتی تو شاید مڈل یوں ہوتی کہ ”بکری دولت ہے!“۔ مگر سادہ لوح میوٴ کو بیاج کی ادائیگی کے سوا اقتصادیات کا کوئی اور مفہوم نہیں معلوم۔ اس کے یہاں بکری اپنی مثبت ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ بنیا کے بیاج سے چھٹکارا پانے کا ذریعہ ہے کیسا عجیب ہے زندگی کا یہ تصور۔ محمد یوسف خاں صاحب نے بتایا کہ ایک سو بکری اگر پائی جائیں تو ایک سال میں لگ بھگ چار ہزار رو پے منافع دے گی اور سو بکری کی اصل تعداد پھر بھی باقی رہے گی۔ لطف یہ کہ اس نفع بخش کاروبار پر ایک ”چرواہا“ کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ چارہ کی تمام ضرورت پہاڑوں کے ذریعہ حاصل ہو جاتی ہے۔ صبح سویرے ”چرواہا“ بکریوں کا ریوڑ لے کر پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے اور سارے دن چراتا رہتا ہے۔ شام کو سورج ڈوبتے ڈوبتے واپس آکر انہیں باڑے میں بند کر دیتا ہے۔ ان چرواہوں کی صحبتیں بہترین ہوتی ہیں، کیونکہ جنگل میں دن کا کھانا اور پانی کے لئے ان کے پاس بافرط بکریوں کا دودھ ہوتا ہے۔ پہاڑوں کی اہرامی ڈھلوان پر اور درختوں کے جھرمٹ میں رنگ برنگی بکریوں کا گزرنا، اور چرواہا کی طرح طرح کی آوازیں عجیب رو مانوی منظر پیدا کر دیتی ہیں اور ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے قدرت کی وسیع ”اسکرین“ پر کوئی حسین فلم دکھائی جارہی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader