آٹھواں سفر
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
آٹھواں سفر مالپ، دہلی۔ الوروڈ پر واقع ایک بڑا قصبہ ہے۔ ۱۲ جون ۱۹۴۹ کو یہاں جمعیت علماء گوڑ گاؤں کی مجلس عاملہ کا اجتماع تھا۔ ارکان عاملہ کے علاوہ ضلع کے مختلف مقامات سے دیگر علماء کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ مدرسہ فیض الاسلام کی وسیع اور پر فضا مسجد میں نمازِ عشاء کے بعد نشست ہوئی۔ تلاوت قرآن کے بعد جناب مولانا نیاز محمد صاحب نے افتتاحی تقریر فرمائی۔ اس کے بعد مجھ سے فرمائش کی گئی کہ میں اپنے خیالات پیش کروں۔ میں نے کہا کہ اہل علم کے اس مجمع میں میری سعادت تو یہ تھی کہ میں سننے والوں میں ہوتا۔ مگر حکم ہے کہ میں سنانے والوں میں بنوں اور معلوم ہے کہ جب ” ادب “ اور ” امر “ میں ٹکر آٹھو تو فوقیت امر کو دینی پڑتی ہے۔ تاہم اس وقت میں جو کچھ کہوں گا اس کا مقصد آپ کو کچھ بتانا نہیں ، بلکہ اپنے خیالات کو آپ کو سامنے رکھنا ہے تاکہ اگر میں صحیح ڈھنگ پر سوچ رہا ہوں تو آپ اس کی توثیق و تائید فرمائیں اور اگر میں غلط سوچ رہا ہوں تو اس کی تصحیح فرمائیں۔ اس کے بعد میں نے ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بات مجھے یہ ضروری معلوم ہوتی ہے کہ ہم اپنے مصائب کے لئے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کا ذہن ختم کر دیں۔ میں نے کہا کہ حال کو ماضی سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اگر ہمیں مستقبل میں اپنے کو ناکامی سے بچانا ہے تو ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہماری ماضی کی غلطیوں نے ہمارے موجودہ نتائج پیدا کئے ہیں تاکہ اب ہم اپنی اصلاح کر کے نئی جد وجہ صحیح لائنوں پر شروع کر سکیں۔ اسی طرح دوسری بات جس کو اچھی طرح جان لینا چاہئے وہ یہ کہ ہر دور کی کچھ طاقتیں ہوتی ہیں جو اس زمانہ میں مؤثر ہوتی ہیں۔ ضرورت ہے کہ زمانہ کے معیار کے مطابق اپنے کو طاقت ور بنایا جائے۔ جب تک آپ ان طاقتوں کے مالک نہ ہوں جو زمانہ میں طاقت کا مقام حاصل کر چکی ہیں۔ اس وقت تک کوئی بھی دوسری تدبیر آپ کو عزت و سربلندی دینے کے لئے کارگر نہیں ہو سکتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader