Urdu book · میوات کا سفر

آٹھواں سفر

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

پھر میں نے کہا کہ ملت کو سر بلند کرنے کے لئے سب سے پہلے خود ملت کو بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں عالم یہ ہے کہ ایک شخص کو کسی معاملہ میں ذرا سا بھی کسی سے اختلاف پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کا جانی دشمن بن جاتا ہے۔ جب تک ہمارے افراد میں کیر کڑ نہ ہو اور انہیں مل کر رہنا نہ آتا ہو کوئی اجتماعی کام سرے سے انجام نہیں دیا جا سکتا ۔ پھر جب یہ ابتدائی چیز ہی ہمارے درمیان موجود نہیں ہے تو ہم کوئی اگلا کام کس طرح کر سکتے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ یہ بھی ہمیں اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ ملت کی تعمیر کا کام شاخ گاڑنا نہیں بلکہ بیج بوکر باغ تیار کرنے کا کام ہے ، اس میں صبر اور انتظار کا حوصلہ درکار ہے۔ اگر ہمارے اندر جلد بازی ہو تو ہم کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس موقع پر ایک ہی جگہ میوات کے کئی مقامات کے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ہماری واپسی سوہنہ کے راستہ سے ہوئی ۔ سوہنہ در اصل ضلع گور گڈ اؤں کا ایک قصبہ ہے۔ وہ دہلی سے تقریباً پچاس کلومیٹر پر واقع ہے۔ اور مجوزه قومی دار السلطنت کا حصہ ہے۔ دہلی کی آبادی کو لگ بھگ پچاس لاکھ تک محدود رکھنے کے لئے اس کے آس پاس کی ریاستوں (انٹر پردیش ، ہریانہ ، راجستھان) کے ۷ اضلاع کو قومی دار السلطنت میں شامل کیا گیا ہے۔ تقریباً دو ارب روپے خرچ کر کے ان ضلعوں کو ترقی دی جائے گی تاکہ دہلی کی فاضل آبادی کو وہاں کھپا یا جائے ۔ نیز صنعتی اداروں کو پھیلا یا جا سکے ۔ سوہنہ ، ایک تاریخی قصبہ ہے جو دہلی سے تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے یہ مقام مسلمانوں کا مرکز تھا۔ اطراف کے دیہاتوں میں اب بھی مسلمان (میو) کثرت سے آباد ہیں۔ مگر قصبہ کی مسلم آبادی منتشر ہو چکی ہے ۔ قدیم دور کی یادگار کئی مسجدیں اور عمارتیں بھی موجود ہیں مگر اب وہ تقریباً غیر آباد حالت میں پڑی ہوئی ہیں۔ چھ سو سال پہلے شہنشاہ اکبر (۱۶۰۵-۱۵۲۳ء) کے زمانہ میں راجہ سانول سنگھ نے یہاں موجودہ بستی بسائی۔ اکبری عہد میں سوہنہ (Sohna) ضلع دہلی کا ایک حصہ تھا۔ آج بھی وہ قومی دار السلطنت میں شامل ہے ۔ سوہنہ ، موجودہ ریاست ہریانہ کے علاقہ میوات میں واقع ہے ۔ یہ علاقہ ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کا مرکز تھا۔ میوؤں نے انگریزوں کے مقابلہ میں غیر معمولی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page